ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 281 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 281

281 ادب المسيح لَهُ دَرَجَاتٌ فِي الْمَحَبة تامة لَهُ لَمَعَاتٌ زَالَ مِنْهَا الْغَيْهَبُ اس نبی کو محبت الہی میں کامل درجات حاصل ہیں۔اس کو ایسی شعاعیں ملی ہیں جن کے ذریعہ تاریکی دور ہو گئی ہے ذُكَاءٌ مُّبِيرٌ قَدْ آنَارَ قُلُوبَنَا وَلَهُ إِلَى يَوْمِ النَّشُورِ مُعَقِّبُ وہ روشنی کرنے والا آفتاب ہے اس نے ہمارے دلوں کو روشن کر دیا ہے اور اس کا قیامت کے دن تک کوئی نہ کوئی جانشین ہوتا رہے گا وَ فِي اللَّيلِ بَعْدَ الشَّمْسِ قَمَرٌ مُّنَوَّرٌ كَمَا فِي الزَّمَانِ نُشَاهِدَنُ وَ نُجَرِّبُ اور رات کو سورج کے بعد روشن چاند ہوتا ہے جیسا کہ ہم زمانہ میں مشاہدہ کرتے اور تجربہ رکھتے ہیں وَلِلَّهِ الْطَاقِ عَلَى مَنْ أَحَبَّهُ فَوَابِـلُـهُ فِي كُلِّ قَرْنٍ يَسْكَبُ اور خدا کی اس شخص پر مہربانیاں ہیں جو آپ سے محبت کرے پس آپ کی موسلا دھار بارش ہر صدی میں برسا کرتی ہے وَشِيْمَتُهُ قَدْ أَفْرَدَتْ فِي فَضَائِل وَقَدْ فَاقَ أَحْلَامَ الْوَرى أَفَتَعْجَبُ اور آپ کا خُلق فضائل میں یکتا ہو گیا ایسے حال میں کہ آپ اپنے اخلاق میں) مخلوق کی عقلوں (کے اندازے پر بھی فوقیت لے گئے۔پس کیا تو حیران ہو رہا ہے کرامات الصادقین کے ایک اور قصیدے میں قرآن کریم کے فرمان بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبة: 128) کا اتباع کرتے ہوئے آنحضرت کو صاحب حوض کوثر اور نائپ خدا کہتے ہیں۔تَخَيَّرَهُ الرَّحْمَنُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ ذكَاءٌ بِجَلْوَتِهِ وَبَدَرٌ مُنَوَّرُ اسے خدائے رحمان نے اپنی مخلوق میں سے منتخب کر لیا ہے وہ اپنے جلوے میں سورج ہے اور چودھویں کا روشن چاند وَكَأَنَّ جَلَالٌ فِي عَرَانِينِ وَبُلِهِ خَفَى الْفَارَ مِنْ أَنْفَاقِهِنَّ الْمُمْطِرُ اس کی موسلا دھار بارش کے اوائل میں ہی عظیم الشان برسنے والے بادل نے چوہوں کو ان کے بلوں سے نکال دیا روفٌ رَّحِيمٌ كَهُفُ أُمَمٍ جَمِيعِهَا شَفِيعُ الْوَرَى سَلَّى إِذَا مَا أَضْحِرُوا وہ مہربان۔رحیم ہے۔سب قوموں کی پناہ ہے۔مخلوق کا شفیع ہے۔جب وہ تنگی میں پڑ جائیں تو تسلی دیتا ہے