ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 272
المسيح 272 یاد کن آن لطف و رحمتها که با من داشتی وہ آں بشارت ہا کہ میدادی مرا از کردگار ان مہربانیوں اور رحمتوں کر یاد کر جو تو نے مجھے پر کیس اور اُن بشارتوں کو بھی جو خدا کی طرف سے تو مجھے دیتا تھا یاد کن وقتے چو بنمودی به بیداری مرا آں جمالے آں رُنے آں صورتے رشک بہار وہ وقت یا دکر جب بیداری میں تو نے مجھے دکھایا تھا۔اپنا جمال وہ چہرہ اور وہ صورت جس پر موسم بہار بھی رشک کرتا ہے۔ابیات اور مثنوی کی صنف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے رہبر کامل ہونے کی برکات کے بیان میں فرماتے ہیں۔عظیم الشان نعتیہ کلام ہے۔آں شہ عالم که نامش مصطفے در معارف سید عشاق حق شمس الضح وہ جہاں کا بادشاہ جس کا نام مصطفے ہے جو عشاق حق کا سردار اور شمس الضحی ہے۔آنکہ ہر نورے طفیل نور اُوست آنکه منظور خدا منظور اوست وہ وہ ہے کہ ہر نوراسی کے طفیل سے ہے اور وہ وہ ہے جس کا منظور کردہ خدا کا منظور کردہ ہے۔آنکہ بہر زندگی آب رواں ہچو بحر بیکراں اس کا وجود زندگی کے لیے آب رواں ہے اور حقایق اور معارف کا ایک نا پیدا کنارسمندر ہے۔آنکه بر صدق و کمالش در جہاں صد دلیل و حجت روشن عیاں وہ کہ جس کی سچائی اور کمال پر دنیا میں سینکڑوں دلیلیں اور روشن براہین ظاہر ہیں۔آنکہ انوار خدا بر روئے اُو مظهر کار خدائی کوئے اُو وہ جس کے منہ پر خدائی انوار برستے ہیں اور جس کا کوچہ نشانات الہی کا مظہر ہے۔آنکہ جملہ انبیاء و راستان خادمانش ہمچو خاک آستاں وہ کہ تمام نبی اور راست باز خاک در کی طرح اس کے خادم ہیں۔آنکه مهرش می رساند تا سما می کند چون ماه تاباں در صفا وہ کہ جس کی محبت آدمی کو آسمان تک پہنچاتی ہے اور صفائی میں چمکتے ہوئے چاند کی طرح بنادیتی ہے۔از طفیل اوست نور ہر نبی! نام ہر مرسل بنام او جلی ہر نبی کا نور اسی کے طفیل سے ہے اور ہر رسول کا نام اس کے نام کی وجہ سے روشن ہے۔۔