ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 271
271 ادب المسيح آں مقام قرب کو دارد بدلدار قدیم کس نداندشان آن از واصلان کردگار قرب کا وہ مقام جوده محبوب از لی کے ساتھ رکھتا ہے اُس کی شان کو واصلان بارگاہ الہی میں سے بھی کوئی نہیں جانتا اں عنایت ہا کہ محبوب ازل دارد بدو کس بخوابے ہم ندیده مثل آں اندر دیار وہ مہربانیاں جو محبوب از لی اس پر فرما تا رہتا ہے۔وہ کسی نے دنیا میں خواب میں بھی نہیں دیکھیں سرور خاصانِ حق شاہ گروه عاشقاں آنکه روحش کرد کے ہر منزل وصل نگار خاصانِ حق کا سردار اور عاشقانِ الہی کی جماعت کا بادشاہ ہے جس کی روح نے محبوب کے وصل کے ہر درجہ کو طے کر لیا ہے یا نبی اللہ توئی خورشید رہ ہائے بدی بے تو نارد رو برا ہے عارف پرہیز گار اے نبی اللہ تو ہی ہدایت کے راستوں کا سورج ہے تیرے بغیر کوئی عارف پر ہیز گار ہدایت نہیں پاسکتا یا نبی اللہ لب تو چشمہ جاں پرور است یا نبی اللہ توئی در راه حق آموزگار اے نبی اللہ ! تیرے لب زندگی بخش چشمہ ہیں اے نبی اللہ! تو ہی خدا کے راستہ کا رہنما ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے ذکر میں فرماتے ہیں۔زندگانی چیست جاں کردن براه تو فدا رستگاری چیست در بند تو بودن صید وار زندگی کیا ہے یہی کہ تیری راہ میں جان کو قربان کر دینا۔آزادی کیا ہے؟ یہی کہ تیری قید میں شکار بن کر رہنا تا وجودم هست خواهد بود عشقت در دلم تا دلم دوران خون دارد به تو دارد مدار جب تک میرا وجود باقی ہے تیرا عشق میرے دل میں رہیگا جب تک میرے دل میں خون دورہ کرتا ہے تب تک اس کا دارو مدار تجھ پر ہے۔یا رسول الله برویت عهد دارم استوار عشق تو دارم از اں روزے کہ بودم شیر خوار یا رسول اللہ میں تجھ سے مضبوط تعلق رکھتا ہوں اور اُس دن سے کہ میں شیر خوار تھا مجھے تجھ سے محبت ہے۔در دو عالم نسبتی دارم بتو از بس بزرگ پرورش دادی مرا خود همچو طفلی در کنار دونوں جہانوں میں میں تجھ سے بے انتہا تعلق رکھتا ہوں۔تو نے خود بچے کی طرح اپنی گود میں میری پرورش فرمائی۔یادکن وقتیکه در کشفم نمودی شکل خویش یاد کن ہم وقت دیگر کآمدی مشتاق وار وہ وقت یاد کر جب تو نے کشف میں مجھے اپنی صورت دکھائی تھی اور ایک موقع بھی یاد کر جب تو میرے پاس مشتاقانہ تشریف لایا تھا