ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 259
259 ادب المسيح حضرت اقدس اس منصب عالی کے بیان میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوال الَستُ بِرَبِّكُمُ “۔کیا میں تمہارا خدا نہیں؟ کے جواب میں سب سے اول ”بلی“ کہنے والی روح آنحضرت کی تھی اس لیئے آپ آدم تو حید ہیں۔فرمایا: روح او در گفتن قول ”بلی“ اوّل کے آدم توحید و پیش از آدمش پیوند یار ترجمہ: قول بلی کہنے میں اس کی روح سب سے اول ہے وہ توحید کا آدم ہے اور آدم سے بھی پہلے یار (اللہ) سے اس کا تعلق تھا یہی وہ اولین منصب رسول اکرم ہے جس کی ذیل میں آپ کی تمام اسماء ذاتی اور صفاتی آتے ہیں۔جیسا کہ حضرت ابوطفیل سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”میرے رب کے نزدیک میرے دس نام ہیں۔میں محمد احمد فاتح۔خاتم ابوالقاسم۔حاشر۔عاقب۔ماحی۔ٹیس اور طہا ہوں“ ( خصائص الکبری زیر باب آنحضرت کے اسماء صفاتی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر بھی اپنے مناقب بیان فرمائے ہیں وہ سب برحق ہیں اور ہم ان سب کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔مگر دو فرمودات تو ایسے دلربا ہیں کہ ان میں آپ کی شان کے تعلق میں تمام عظیم الشان مناقب جمع ہو گئے ہیں اور ان میں ہمارے لیے ایک نوید جانفزا بھی ہے کہ آپ جیسا رحیم اور درگزر کرنے والا نبی ہماری شفاعت کرے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔فرماتے ہیں: الا وَ أَنَا حَبِيبُ الله وَلَا فَخْرَ وَ اَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَوَانَا أَوَّلُ شَافِعِ وَاَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ لَا فَخْرَوَانَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حَلْقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِى فَيُدْخِلْنِيْها وَ مَعِيَ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَوَانَا اكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِيْنَ وَلَا فَخْرَ (ترمذی ابواب المناقب) ترجمہ سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اور کوئی فخر نہیں۔میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور کوئی فخر نہیں قیامت کے دن سب سے پہلا شفیع بھی میں ہی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائیگی اورکوئی فخر نہیں۔سب سے پہلے جنت کا کنڈا کھٹکھٹانے والا بھی میں ہوں اللہ تعالیٰ میرے لئے اسے کھولے گا اور مجھے داخل کریگا میرے ساتھ فقیر و غریب مومن ہونگے اور کوئی فخر نہیں۔میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ مکرم ہوں لیکن کوئی فخر نہیں۔