ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 256
المسيح 256 گیا صرف ہم اُن نبیوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے جیسے حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد، حضرت عیسی علیہم السلام اور دوسرے انبیاء سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہ آتے اور قرآن شریف نازل نہ ہوتا اور وہ برکات ہم بچشم خود نہ دیکھتے جو ہم نے دیکھ لئے تو ان تمام گزشتہ انبیاء کا صدق ہم پر مشتبہ رہ جاتا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ایک اور مقام پر عظیم الشان نکتہ نعت رسول اکرم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے آپ نے ہر ایک قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پرواہ نہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالے نے فضل کیا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِن الله وَمَلَبِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا الله تعالى اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو تم درود و سلام بھیجو نبی پر۔اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے یعنی آپ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے پیروں تھی۔اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپ کی رُوح میں وہ صدق وصفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) باری تعالیٰ کے فرمودات اور حضرت اقدس کی تفسیر و تعبیر سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ نعت رسول اکرم کے حقیقی اور بنیادی موضوعات دو ہیں یعنی آپ کا تعلق باللہ اور اپنے متبعین میں اس تعلق کو قائم کرنے کا منصب اور دوسرے آپ کا ہمدردی خلق کا جذبہ اور شوق مگر ایک بہت ہی اہم موضوع جس کا تعلق مومنین کی محبت اور عشق رسول سے ہے۔ہم نے جو آیات منصب رسول اکرم کے بیان میں پیش کی ہیں ان میں یہ معانی بھی مضمر ہیں کہ روحانی منصب اور اخلاق حسنہ کے حصول کے لئے عاشقانہ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کے فرمان میں واضح ہے کہ محبت الہی کا وصیلہ آپ کا اتباع ہے جو محبت رسول سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔