ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 248
ب المسيح 248 اصولی طور پر آداب نعت کے دو بنیادی عناصر اور شرائط ہیں۔اول:۔نعت کے مضامین میں رسول اکرم کی عظمت اور شان اور ان سے محبت کے اظہار میں ایسا اعتدال ہو کہ کسی صورت میں ان میں شرک کا شائبہ نہ ہو اور مافوق الفطرت صفات کو بیان نہ کیا جائے دوم :۔الفاظ کے انتخاب میں ایسا وقار اور تہذیب جو حضرت رسالت مآب کے روحانی منصب کو سزاوار ہے یہ وہ اقدار نعت رسول اکرم ہیں جن کو عاشقانِ رسول نے اور زبان دانوں نے دل و جان سے قبول کیا ہے تاہم ان کی مکمل پاسداری اور احتیاط کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ ہدیہ نعت پیش کرنے والے کو حضرت سرور انبیاء کے روحانی منصب کا شعور ہو اور آپ کی سیرت طیبہ کا تفصیلی علم ہو اول مقام پر تو رسول اکرم کے قرب الہی کا مقام اور آپ کی سیرت کا علم باری تعالیٰ کو ہی ہے جس نے آپ کو نبوت کے کمالات کے اعتبار سے اور انسان کامل ہونے کے اعتبار سے خود تخلیق کیا ہے۔قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دونوں مراتب کے بیان سے بھرا ہوا ہے۔ہم اختصار کے پیش نظر دو مقامات کو حضرت مسیح موعود کی تفسیر کیسا تھ پیش کرتے ہیں اول مقام پر باری تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ جَاءَ كُم مِّنَ اللهِ نُورٌ وكِتب مُّبِينٌ (المائدة : 16) اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا (الاحزاب : 47) آپ حضرت فرماتے ہیں۔انبیاء مجملہ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے قد جَاءَ كَمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتُبٌ مُّبِينٌ (الجز: 6) وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا (الجز : 22) یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) مشاہدہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی اور فطرتی مقام کو کن خوبیوں کیساتھ تخلیق