ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 247 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 247

247 ادب المسيح کر سکا۔اس نے کہا: میں نے ایک انسان دیکھا پاکیزہ رو، کشادہ چہرہ، پسندیدہ خو، ہموار شکم، سر میں بھرے ہوئے بال، زیبا، صاحب جمال، آنکھیں سیاہ و فراخ، بال لمبے اور گھنے ، آواز میں مردانگی و شیرینی، گردن موزوں، روشن اور چمکتے ہوئے دیدہ سرنگیں آنکھ، باریک اور پیوستہ ابرو، سیاہ گھنگھریالے گیسو، جب خاموش رہتے تو چہرہ پر وقار معلوم ہوتا، جب گفتگو فرماتے تو دل ان کی گئے طرف کھنچتا، دور سے دیکھو تو نور کا ٹکڑا، قریب سے دیکھو تو حسن و جمال کا آئینہ، بات میٹھی جیسے موتیوں کی لڑی۔قد نہ ایسا پست که کمتر نظر آئے ، نہ اتنا دراز کہ معیوب معلوم ہو۔بلکہ ایک شارخ گل ہے، جو شاخوں کے درمیان ہو۔زبیند و نظر، والا قدر، ان کے ساتھی ایسے جو ہمہ وقت ان کے گرد و پیش رہتے ہیں ، جب وہ کچھ کہتے ہیں تو یہ خاموش سنتے ہیں۔جب حکم دیتے ہیں تو تعمیل کو جھپٹتے ہیں، مخدوم ومطاع نہ کو تا پن اور نہ فضول گو۔(شرح الزرقاني على المواهب اللدنية صفحه 130 تا134) اور غزل کے انداز میں ہمارے پیارے مسیح علیہ السلام کے مقابل پر کیا ہوگا۔فرماتے ہیں۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است میری جان و دل محمد کے جمال پر فدا ہیں۔اور میری خاک آل محمد کے کوچے پر قربان ہے دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جلال محمد است میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سنا۔ہر جگہ محمد کے جلال کا شہرہ ہے ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم یک قطره ز بحر كمال محمد است معارف کا یہ دریائے رواں جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں۔یہ محمد کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے این آتشم ز آتش مهر محمدی ست وایں آب من ز آب زلال محمد است یہ میری آگ محمد کے عشق کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میرا پانی محمد کے مصفا پانی میں سے لیا ہوا ہے مختصر اور غزل کے انداز میں تخلیق کئے ہوئے اشعار تو نعت رسول اکرم کے اسلوب شعر اور اس کی ہیئت کے تعلق میں ہے ( ہیئت سے مراد اشعار کی خارجی صورت ہے ) مقصد یہ ہے کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ نعت رسول اکرم ہی ایک ایسی صنف شعر ہے جس کو ہر اسلوب اور انداز میں رقم کیا گیا ہے اور بہت خوبی سے کیا گیا ہے مگر اس کے مضامین اور انتخاب الفاظ کے اعتبار سے ہر نعت گو پر لازم ہے کہ آداب نعت کا التزام کرے۔