ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 242
ب المسيح 242 نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس طور سے ہمارے آقا اور مطاع صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے محبوب ہیں اُسی طور سے آپ کی نعت بھی آپ کی اُمت میں تینوں زبانوں کے شاعروں نے کثرت سے بیان کی ہے گو اس کی ابتدا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد ہی سمجھی جاتی ہے مگر حق تو یہ ہے کہ آپ کی اول اور حقیقی نعت آپ کے اس فرمان سے شروع ہوتی ہے كُنتُ نَبِيًّا و الآدمَ بَيْنَ الْمَاءِ والطين یعنی آپ تقدیر الہی میں اس وقت بھی نبوت کے منصب کے حامل تھے جبکہ آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھا ( تخلیق نہیں ہوا تھا) اور منصب نبوت ہی آپ کی نعت اور مناقب کا محور اور مرکزی نقطہ ہے۔نعت عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی مدح و تعریف کے ہیں۔اردو زبان میں یہ صنف شعر اور یہ اصطلاح فارسی سے آئی ہے کیونکہ عربی میں شاء رسول اکرم کو مدح یا اوصاف رسول اکرم کا عنوان دیا جاتا ہے اور یہ بھی ہے کہ فارسی اور اردو میں نعت شعری کلام ہی کو کہتے ہیں۔مگر عربی میں نظم و نثر دونوں میں مناقب رسول کا عنوان مدحت و توصیف رسول اکرم ہے۔اسلامی ادب میں ایک مقبول صنف شعر ہونے کی وجہ سے اس پر بہت نقد و نظر ہوا ہے اور اس کے حقیقی منصب کو قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ابتدا میں بیان ہو چکا ہے کہ ہر صنف شعر کا اپنا اسلوب اور طرز بیان ہوتا ہے اور شاعر اپنے کلام کو اس دائرہ قید و بند کی پاسداری کے ساتھ ہی تخلیق کرتا ہے غزل کو قصیدے کے انداز میں اور قصیدے کو مرثیہ گوئی کی طرز میں تخلیق نہیں کیا جاتا کیونکہ غزل کے موضوع عشق و محبت کی واردات ہیں اور قصیدہ کسی کی مدح وستائش اور مرثیہ کسی وفات پر غم واندوہ کے اظہار کا نام ہے اور ان سب کی جدا گا نہ لفظی اور معنوی علامات اور مجاز ہے۔اس تقسیم اسالیب شعر کے ہونے پر بھی صرف ایک صنف شعر ایسی ہے جو تمام اصناف شعر کے اسلوب میں بیان ہو سکتی ہے اور ہوئی ہے وہ نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔اس کا موجب یہ حقیقت ہے کہ مضمون کی مناسبت سے نعت میں عشق رسول غزل کے انداز میں اور قصیدے کے اسلوب میں آپ کی عظمت و شان اور مرثیہ کے اسلوب پر آپ کی وفات کا الم بیان کیا گیا ہے اور بہت ہی خوبصورت انداز سے کیا گیا ہے جیسے کہ محسن کاکوروی کا شوق وارادہ ہے۔اپنے مشہور عالم لامیہ قصیدے میں کہتا ہے :