ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 227 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 227

227 تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں ادب المسيح کس سے گھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا خو برویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس ترے گلزار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سوسو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا تیرے ملنے کے لیے ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا ایک دم بھی گل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا گھٹی جاتی جاں ہے جیسے دل کھٹے بیمار کا شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا 66 اس شنا کی ادبی خوبی اور محسن بیان کا ذکر تو ہم نے چند الفاظ میں بے انتہا اختصار سے کر دیا ہے۔ادبی شعر کے اسالیب کو سمجھنے والے اس عظیم الشان سہل ممتنع کا ادبی اقدار کی روشنی میں تنقیدی تجزیہ کر کے اس کے محاسن کی مزید نقاب کشائی کر سکتے ہیں مگر جس خوبی اور حسن کا ہم ذکر کرنا چاہتے ہیں وہ اس ثناء کا اتباع قرآن ہے کیونکہ حمد و ثناوہ موضوع ہے جس کے بارے میں ہمارے آقا اور مطاع صلی اللہ علیہ وسلم یہ عارفانہ فیصلہ صادر کر چکے ہیں کہ حقیقی ثناء باری تعالیٰ وہی ہے جو ہمارے خدا نے اپنی ذات والا صفات کے لیے کی ہے۔اس لیے کسی بھی حمد وثنا کے حسن و خوبی کے تعین میں ہماری میزان اور کسوٹی قرآن کریم کے فرمودات ہی ہونگے اور جو ثنا ان فرمودات کے اتباع میں اور ان ہی کا عکس ہوگی وہی ہمارے لئے محترم اور محبوب ہوگی اس معیار کی روشنی میں اگر اس ثنا کا تجزیہ کیا جائے تو اول کے تین شعر یعنی