ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 226
المسيح 226 اس جہاں میں ہے وہ جنت میں ہی بے ریب وگماں وہ جو اک پختہ توکل سے ہے مہماں تیرا دیکھ لیں۔عجز ہے۔انکساری ہے۔انہیں میں لپٹا ہوا شکر اور حمد ہے محبان الہی پر خدا تعالیٰ کے انوار کا یقین کامل ہے اور مشاہدہ کریں کہ آپ حضرت کا یہ مضمون کہ خدا تعالی حمد کرنے والے کو محمود بنا دیتا ہے کس خوبی سے بیان ہوا ہے۔جس نے دل تجھ کو دیا ہو گیا سب کچھ اُس کا سب ثنا کرتے ہیں جب ہووے ثنا خواں تیرا بہت مرتبہ بیان ہوا ہے کہ حضرت اقدس کا اسلوب شعر یہ ہے کہ ہر موضوع شعر میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی محبت جلوہ گر ہو جاتی ہے۔اس لیے آپ کا تمام کلام در اصل ثناء باری تعالی ہی ہے۔تاہم خالص حمد و ثنا کی صنف شعر میں بھی آپ نے ایک نظم رقم فرمائی ہے۔جو اردو ادب میں ایک درخشندہ ستارے کی طرح سے ہمیشہ درخشاں و تاباں رہیگی۔میداردوادب کا شاہ کار ہے۔اردو ادب پر واجب ہے کہ اس پر ناز کرے۔فرماتے ہیں: کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا اس بہارِ حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا تو نے خود رُوحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اُس سے ہے شور محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھتے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا