ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 221 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 221

221 ادب المسيح بھی بے شمار اذ کا رالہی مذکور ہیں۔جو کہ تمام تر ثناء باری تعالی ہی ہے۔تا ہم ایک فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں جن از کارکا تاکید احکم ہے پیش کرتے ہیں۔فرماتے ہیں: عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اذا مررتم برياض الجنة فارتعوا قلت يا رسول الله و ما رياض الجنة قال المساجد قلت و ما و الرتع يا رسول الله قال سبحان الله و الحمد لله و لا اله الا الله و الله اكبر (سنن ترمذی کتاب الدعوات عن رسول الله ) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب تو جنت کے باغوں میں سے گزرو تو ان میں چرو۔میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ جنت کے باغ کون سے ہیں۔آپ نے فرمایا مسجد میں۔میں نے عرض کی اور چرنا کیا ہے؟ فرمایا سبحان الله والحمد لله و لا اله الا الله و الله اکبر کا ورد کرنا۔ان اذکار کے متعلق یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انتخاب قرآن کریم کے فرمودات کے مطابق ہی کیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں اکثر و بیشتر مقامات میں اللہ تعالیٰ کی ثناء انہی مبارک کلمات سے کی گئی ہے۔اشارہ ہم ہر کلمہ کی نسبت سے فرمودات قرآن کو پیش کرتے ہیں (1) سبحان اللہ کے تحت باری تعالیٰ فرماتے ہیں: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الاحزاب: 43،42) اللهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُوْنَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوتِ اور پھر ذکر ا کثیرا کی تفسیر وتعبیر میں فرمایا فَسُحْنَ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُوْنَ (الروم: 18 ،19) پس اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام کے وقت میں داخل ہو یا صبح کے وقت میں داخل ہو اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کی تعریف ہے اور بعد دو پہر بھی اُس کی تسبیح کرو اور اسی طرح عین دو پہر کے وقت بھی۔