ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 217 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 217

217 ادب المسيح ثلاث مرات اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم و قرأ ثلاث آيات من آخر سورة الحشر وَكَّلَ الله به سبعين الف ملك يصلون عليه حتى يُمْسِي و ان مات في ذلك اليوم مات شهيدًا و من قالها حين يمسى كان بتلك المنزلة (ترمذی کتاب فضائل القرآن عن رسول الله) ترجمہ: معقل بن یسار سے مروی ہے آپ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے صبح کے وقت اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجیم پڑھ کرسورۃ حشر کی آخری تین آیات پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتوں کو مقرر کرتا ہے جو اس کے لیے شام تک دعائیں کرتے رہتے ہیں۔اور اگر وہ اُس دن مرجائے تو اس کی موت شہید کی موت ہوگی۔اور یہ بھی کہ جس نے رات کو ایسا کیا اس کے لیے رات بھر اسی کے مطابق ہوگا۔حضرت اقدس نے ان آیات کی بہت تفصیلی اور پر معارف تفسیر فرمائی ہے جو آپ کی تفسیر میں سورۃ الحشر کے تحت بیان ہے۔ہم اختصار کے پیش نظر ان آیات میں بیان شدہ صفات باری تعالیٰ کا وہ ترجمہ پیش کرتے ہیں جو حضرت اقدس نے کیا ہے۔هُوَ اللهُ الَّذِى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں ہے۔پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سرا پاد یکھنے سے قاصر ہیں۔پھر فرمایا کہ وہ علم الشھادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔پھر فرمایا ھو الرحمن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کے پاداش میں اُن کے لیے سامانِ راحت میتر کرتا ہے جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنادیا۔اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمان کہلاتا ہے اور پھر فرمایا کہ الرحیم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزاء دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)