ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 190 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 190

ب المسيح 190 وہ آج شاہِ دیں ہے وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب وامیں ہے اُس کی ثناء یہی ہے اور پھر اپنے اصل موضوع یعنی محبوب حقیقی کی محبت کا جوش دل میں پیدا ہوتا ہے جس کی جناب سے یہ احسانات انسان پر کیے گئے اور جو حقیقی محور ہے ان تمام موضوعات کا۔فرماتے ہیں۔اے میرے رپ رحمس تیرے ہی ہیں یہ احساں مشکل ہو تجھ سے آساں ہردم رجا یہی ہے جلد آمرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے منہ مت چُھپا پیارے میری دوا یہی ہے ہم خاک میں ملے ہیں شاید ملے وہ دلبر مشت غبار اپنا تیرے لیے اُڑایا جیتا ہوں اس ہوس سے میری غذا یہی ہے جب سے سُنا کہ شرط مہر و وفا یہی ہے اس عشق میں مصائب سوسو میں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں۔اس عہد کو نہ توڑوں اس دلبرے ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے حضرت اقدس کے کلام کی یہ ادائے خاص آپ کے تینوں زبانوں کے اشعار میں آشکار ہے۔اب جبکہ ہم آپ حضرت کے تمام شعری کلام کا ایک مختصر تعارف کروانا چاہتے ہیں تو شعر کی ہیئت کے اعتبار سے آپ کی اس دلر با کیفیت کو قدرے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہوگا۔فنی اعتبار سے شعر میں ہیئت کو قائم رکھنا مشرقی ادب میں ہی نہیں بلکہ تمام انسانی ادب میں ایک لازمہ ہے اصطلاحی اعتبار سے اس کے ایک معانی یہ بھی ہیں کہ اظہار یا بیان کی خارجی صورت کی نوعیت کو قائم رکھا جائے یہ تو معلوم عام ہے کہ مثنوی غزل۔قطعہ اور نظم کی ایک خارجی صورت ہے جس کے ذریعہ سے وہ ایک دوسرے سے ممیز ہوتے ہیں۔مگر یہاں تک ہی شعر کی خارجی صورت کو متعین کرتی ہے (یعنی شعر کا وزن۔قافیہ ردیف اور دیگر لوازم شعر ) مگر خارجی ہیئت کی اہمیت کے ساتھ ادبی فن پارہ ایک داخلی بیت بھی رکھتا ہے اس کا تعلق ادب کے مواد اور ادیب کے طمح نظر سے ہوتا ہے۔اس داخلی ہیئت کو بھی اساتذ ہ انتقاد نے کم مرتبہ نہیں دیا بلکہ شعر کے حسن و خوبی کا