ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 180 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 180

المسيح 180 چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ حضرت الہام باری تعالیٰ کی کیفیات کو بیان کرتے ہوئے فرمارہے ہیں کہ گوعشق محبوب کے دیدار سے پیدا ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور گفتگو سے بھی عشق کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں خاص طور پر محبوب کی راز کی با تیں یہ خصوصیت رکھتی ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ ان راز و نیاز کی باتوں کے فدائی ایک دو یا ہزار نہیں بلکہ ایسے مقتول بے شمار ہیں اور محبوب حقیقی بھی ایسے مقتول پسند کرتا ہے اور محبوب حقیقی کے چہرے کا غازہ ان شہیدوں کا خون ہوتا ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ سعادت (یعنی مورد الہام باری تعالیٰ ہونا ) جب آپ کی قسمت میں لکھی گئی تو آہستہ آہستہ آپ کی باری بھی آگئی اور پھر خدا تعالیٰ نے اس کثرت اور اس طرز سے الہامات سے نوازا کہ آپ کا ہر روحانی سفر کر بلا کی طرح سے جاں نثاری کا نمونہ پیش کرنے لگا اور آپ دم بدم حضرت حسینؓ کی طرح سے شہید ہونے لگے آپ کے اشعار کا مطالعہ کر لیں۔عشق کو رونماید از دیدار نیز که که بخشیزد از گفتار وہ عشق جو دیدار سے پیدا ہوا کرتا ہے کبھی کبھی گفتار سے بھی پیدا ہوتا ہے بالخصوص آن سخن که از دلدار خاصیت دارد اندرین اسرار خاص کر دلدار کی وہ باتیں جو اسرار کے طور پر عشق پیدا کرنے والی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں ایں قتیلان او بروں ز شمار گشته او نه یک نہ دو نہ ہزار ان باتوں کے فدائی صرف ایک دو یا ہزار انسان ہی نہیں ہیں بلکہ اُس کے کشتے بے شمار ہیں ہر زمانے قتل تازه بخواست غازه روئے اُو دمِ شهداست ہر وقت وہ ایک نیا قتیل چاہتا ہے اس کے چہرہ کا غازہ شہیدوں کا خون ہوتا ہے ایں سعادت چو بود قسمت ما رفته رفته رسید نوبت ما یہ سعادت چونکہ ہماری قسمت میں تھی رفتہ رفتہ ہماری نوبت بھی آپہنچی صد حسین است در کر بلائے است سیر ہر آنم گریبانم کربلا میری ہر آن کی سیر گاہ ہے۔سینکڑوں حسین میرے گریبان کے اندر ہیں مشاہدہ کریں کہ مضمون جنگ و جدال کا نہیں ہے۔الہام باری تعالیٰ کی تاثیرات سے خدا تعالیٰ پر عاشق