ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 179 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 179

179 ادب المسيح کر بلا۔گریبان اور جیب: گذشتہ میں کئی مرتبہ کہا گیا ہے کہ شعری زبان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ سراسر استعارہ ہے اور استعارہ لفظ کے معانی غیر لغوی کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا ہے تاہم یہ لازم ہوتا ہے کہ معانی لغوی اور مجازی میں کوئی نہ کوئی تعلق ہو اور کوئی بات ایسی ضرور ہو جس سے ظاہر ہو کہ لفظ مجازی معنوں میں اختیار کئے گئے ہیں۔اس بات اور عصر کو قرینہ کہتے ہیں۔شعر میں ” قرینہ کا ثبوت مضمون کے اتحاد سے بھی ظاہر ہوتا ہے اور مضمون کی معنوی دلالتوں سے بھی قائم ہوتا ہے تا کہ معنی مستعار کا جواز پیدا کیا جائے ایک مشہور عام مثال ہے کہ جو کہ اغلبا حماسہ کے اس مصرع سے اخذ کی گئی ہے۔وَلا أُخْمِدَتْ نَارٌ لَنَا دُونَ طَارِقٍ “ ترجمہ: اور رات کے آخر وقت میں بھی آنے والے مہمان کے لیے ہمارے مطبخ کی آگ جلتی رہتی ہے۔گواس مثال میں لفظی قرینہ تو نہیں ہے تاہم معنوی قرینہ ضرور ہے کہ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم بہت مہمان نواز ہیں اور ان معنوں میں ہی شعر کا حسن و جمال مضمر ہے۔تا ہم یہ بھی درست بات ہے کہ قرینہ" کی پہچان اور اس کی موجودگی کے شعور کے لیے شعر نہی اور ذوق سلیم ضروری ہے اور اگر یہ نہیں تو پھر اس کوچے میں قدم بھی نہیں رکھنا چاہیئے۔کیونکہ شعر میں حسن و جمال اس کے مجازی دلالتوں سے ہی پیدا ہوتا ہے یہ تمہیدی گزارشات اس لیے کی گئی ہیں کہ ہم آپ حضرت کے ایسے شعر کا ادبی تجزیہ کرنا چاہتے ہیں جس نے گذشتہ ایک صدی سے مخالفین کو شک وشبہ میں مبتلا کر رکھا ہے۔فرماتے ہیں: کر بلائے است سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم یہ شعر غزل کا نہیں۔نظم اور مثنوی کے اسلوب میں وارد ہوا ہے۔غزل میں ہر شعر ایک منفر د معانی رکھتا ہے۔نظم اور مثنوی کے اشعار اپنے مضمون کو اشعار کے تسلسل میں بیان کرتے ہیں۔اس لیئے ہمیں اول یہ دیکھنا ہوگا کہ آپ حضرت کس تسلسل بیان میں اس شعر کو پیش کر رہے ہیں۔