ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 152
ب المسيح 152 اور قرآن کریم سے حصول عرفان باری تعالیٰ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: این کتاب حق که قرآں نامِ اُوست یاده عرفان ما از جام اوست ترجمہ: یہ خدا کی کتاب جس کا نام قرآن ہے میرے عرفان کی مے اسی جام سے ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عشق کے بیان میں فرماتے ہیں: ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلا یا ہم نے فارسی اور اردو کے اشعار پیش ہوئے ہیں تو عربی کا فرمان بھی سُن لیں۔فرماتے ہیں: أنْتَ الْمُرَادُ وَ أَنْتَ مَطْلَبُ مُهْجَتِي وَ عَلَيْكَ كُلُّ تَوَكَّلِي وَ رَجَائِي ترجمہ: تو ہی میری مراد ہے اور تو ہی میری روح کا مطلوب ہے اور تجھ پر ہی میرا سارا بھروسہ اور امید ہے أَعْطَيْتَنِي كَاسَ الْمَحَبَّةِ رَيْقَهَا فَشَرِبْتُ رُوْ حَاءٌ عَلَى رُوحَاءِ ترجمہ: تو نے مجھے محبت کی مے کا بہترین ساغر عطا کیا ہے تو پھر میں نے جام پر جام پیا ہے۔دیکھ لیں غالب نے کتنی درست بات کہی ہے ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر بات یہ ہو رہی تھی کہ شعری ادب میں ”لفظ کی مجازی علامتوں اور اشاروں سے مدد نہ لی جائے تو کیفیات قلبی کا حسین اور دلنشین انداز میں اظہار ممکن نہیں ہوتا اور اسی ادبی عصر کا نام مجاز ہے اس لیے ہر قابل ذکر شاعر نے اپنے جذبات اور خیالات کے اظہار کامل کے لیے لفظی دلالتیں اور اشارے مقرر کیے ہیں تا کہ شعر کوسُن کر یہ کہا جا سکے۔دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ہماری خواہش ہے کہ حضرت اقدس کے ادب عالیہ میں آپ حضور نے جو الفاظ معانی مستعار یا علامات کے طور پر اختیار کیے ہیں ان کا ایک مختصر سا تصور پیش کریں۔مشکل یہ ہے کہ ایسے رموز و علائم تو بہت ہیں مگر زیر نظر