ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page xvii of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page xvii

ادب المسيح xviii امس ایدہ بنصرہ العزیز اید ادب المسیح کا تعارف بزبان حضرت خلیفة المسیح الامس لا اله عالی : حضرت ال لي من لدنك شاطنا نعيها تمدُه وَتَعَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر لندك 5-3-2008 پیارے ماموں (مرزا حنیف احمد صاحب) السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ نے اپنی نی کاوش جو اس فرمانے کے بے بہا اور قیمتی ترین خزانے کے چند ہیرے جواہرات دکھانے کے لئے کی اور جس کا نام آپ نے ادب امسیح “ رکھا ہے، مجھے بھجواتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کروں۔اس سے پہلے میں نے آپ کو اس بارے میں ایک مختصر خط لکھا تھا جو مصروفیات کی وجہ سے کتاب کو سرسری دیکھ کر لکھا تھا۔جس پر نہ مجھے تسلی ہوئی نہ آپ کو۔جس کا آپ نے اظہار کیا اور آپ کا یہ اظہار بھی مجھ پر احسان ہے کیونکہ اسی وجہ سے میں نے کتاب کو جستہ جستہ دیکھنا شروع کیا۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام اور ادب کا تعلق ہے اس بارے میں ایک عاجز انسان کی رائے کیا ہو سکتی ہے۔یہ تو وہ کلام ہے جس کو کائنات کے خدا نے خود آپ کے منہ سے کہلوایا اور پھر آپ کو الہا ما فرمایا کہ کلام افصحت من لدن رب كريم جس کا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہو۔اس کی خوبصورتی تو بیان کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔رائے نہیں دی جاسکتی۔آپ نے تو اس کلام کے چند موتیوں کی چمک دکھانے کی کوشش کی ہے اور جیسا کہ الہام سے ظاہر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق فرمائی کہ کوئی دنیاوی کلام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔چاہے جتنا بڑا ہی صوفی شاعر یا لکھنے والا کیوں نہ ہو۔کیونکہ آپ کے کلام کا محور ہی فنافی اللہ کا اعلیٰ ترین معیار اور عشق رسول کی انتہا ہے۔جس پر آپ کا یہ مصرعہ مہر ثبت کرتا ہے کہ بعد از خدا بعشق محمد محمرم آپ نے خدا تعالیٰ کے اس فرمان کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا خوب سمجھا کہ