ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 132 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 132

المسيح 132 خالص قومی تفاخر اور شجاعت کی بنا پر ہے شعر جاہلیہ کے اس اسلوب اور ترجیہات کلام کے ثبوت میں ابو تمام کا حماسہ اور معلقات کے قصائد کا ہر شعر گواہ ہے اور جاہلیہ کی شاعری کی یہی پختہ اسناد ہیں اور حضرت اقدس کے فرمان کے مطابق آئمہ راشدین انہی کو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کے ثبوت میں بطور سند لاتے تھے۔فرق یہ ہے کہ قرآن کریم نے عربی اسلوب کو قائم رکھتے ہوئے عربی ادب کی ترجیحات اور مقاصد کا رخ موڑ دیا۔دنیا کی محبت کو خدا کی محبت میں تبدیل کر دیا اور باہم جنگ و جدال کے شوق کو خدا کے منشا کے مطابق جہاد میں اور سخاوت اور اکرام ضیف کو صدقہ اور خیرات کی تلقین میں بدل دیا۔ہمارے آقا حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم کے کامل اتباع میں اپنے کلام میں اسی دستور کو قائم رکھا ہے اور کمال ادبی شان اور صنعت گری کے ساتھ اشعار کی تخلیق کی ہے اور عربی کلاسیکل اسلوب کی پاسداری فرمائی ہے۔ادب جاہلیہ میں اول مقام تو سبعہ معلقات کا ہے اور دوسرے درجے پر وہ اشعار ہیں جو بعثت نبی اکرم سے قبل مقبول عام تھے۔ہم نے نہایت اختصار کے ساتھ حماسہ کی صرف دو مثالیں پیش کی ہیں۔تقابل اور موازنہ کے لیے حضرت اقدس کے چند اشعار بھی ملاحظہ کر لیں۔ابلاغ رسالت کے بیان میں فرماتے ہیں۔وَنَحْنُ كَمَاهُ اللَّهِ جِئْنَا بِأَمْرِهِ حَلَلْنَا بَلَادَ الشَّرُكِ وَ اللهُ يَخْفُرُ ہم خدا کے سوار ہیں۔اس کے حکم سے آئے ہیں۔اور شرک کے شہروں میں ہم داخل ہوئے ہیں اور خدا ر ہنمائی کر رہا ہے۔أَقُولُ وَلَا أَخْشَى فَإِنِّي مَسِيحُهُ وَلَوْ عِندَ هَذَا الْقَوْل بِالسَّيْفِ انْحَرُ میں بے دھڑک کہتا ہوں کہ میں خدا کا مسیح موعود ہوں۔اگر چہ میں اس قول پر تلوار سے قتل بھی کیا جاؤں وَقَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ ذِكْرُ فَضَائِلِي وَذِكْرُ ظُهُورِى عِندَ فِتَنِ تُشَوَّرُ اور میرے فضائل کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔اور میرے ظہور کا ذکر بھی پر آشوب زمانہ میں ہونا لکھا ہے وَمَا أَنَا إِلَّا مُرُسَلٌ عِندَ فِتْنَةٍ فَرُةِ قَضَاءَ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ اور میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔پس خدا کے حکم کو تو بدل دے اگر تجھے قدرت ہے تَخَيَّرَنِي الرَّحْمَانُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ لَهُ الْحُكْمُ يَقْضِئُ مَا يَشَاءُ وَيَأْمُرُ خدا نے مجھے اپنی مخلوقات میں سے چن لیا ہے۔حکم اسی کا حکم ہے جو چاہے کرے ایک اور مقام میں فرماتے ہیں۔وَإِنِّي مِنَ الْمَوْلَى الْكَرِيمِ وَإِنَّهُ يُحَافِظُنِي فِي كُلِّ دَشْتٍ وَيَخْفِرُ اور میں خدا کی طرف سے ہوں۔اور خدا ہر ایک جنگل میں میری محافظت اور رہنمائی کرتا ہے فَكِيدُوا جَمِيعَ الْكَيْدِ يَا أَيُّهَا الْعِدَا فَيَعْصِمُنِي رَبِّي وَهَذَا مُقَدَّرُ