ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 101 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 101

ما از و یا بیم ہر نور و کمال! 101 ادب المسيح وصل دلدار ازل بے او محال ہم ہر روشنی اور ہر کمال اُسی سے حاصل کرتے ہیں محبوب از لی کا وصل بغیر اُس کے ناممکن ہے ہر چہ زُو ثابت شود ایمانِ ماست اقتدائے قول او در جانِ ماست اُس کے ہر ارشاد کی پیروی ہماری فطرت میں ہے جو بھی اس کا فرمان ہے اس پر ہمارا پورا ایمان ہے عیسائیوں پر ابلاغ رسالت ہر که در راه محمد زد قدم انبیاء را شد مثیل، آں محترم جس نے محمد کے طریقہ پر قدم مارا۔وہ قابل عزت شخص نبیوں کا مثیل بن جاتا ہے تو عجب داری از فوز ایں مقام پائے بند نفس گشته لشته صبح و شام تو اس درجہ کی کامیابی پر تعجب کرتا ہے کیونکہ تو ہر وقت اپنے نفس کا غلام ہے اے کہ فخر و ناز بر عیسی تراست بندہ عاجز بچشم تو خداست اے وہ شخص کہ تجھے عیسی پر فخر اور ناز ہے اور خدا کا ایک عاجز بندہ تیری نظر میں خدا ہے پیش عیسی او فتقادی در سجود ورور شد فراموشت خداوندے تجھے خدائے شفیق بھول گیا اور تو عیسی کے آگے سجدہ میں گر گیا من ندانم این چه عقل است و ذکا بنده را ساختن ربُّ السما میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسی عقل اور ذہانت ہے کہ ایک بندہ کو خدا بنایا جائے فانیاں را نسبتے با او کجا از صفات او کمال است و بقا فانی انسانوں کو خدا سے کیا نسبت اس کی صفت تو کامل ہونا اور ہمیشہ رہنا ہے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدائی منصب دینے کے جواب کو بھی سُن لیں۔در آں ابن مریم خدائی نبود ز موت وز فوتش رہائی نبود! اُس ابن مریم میں خدائی نہ تھی۔کیونکہ موت و فوت سے اُسے رہائی حاصل نہ تھی رہا کرد خود را ز شرک و دوئی تو ہم گن چنیں ابنِ مریم توئی! اُس نے اپنے تئیں شرک اور دوئی سے آزاد کر لیا تھا تو بھی ایسا کر۔ابنِ مریم تو بھی بن جائے گا کتنا پیارا استدلال ہے یہ کہ جو بھی شرک سے کامل پاک ہو جاتا ہے وہ ابن مریم ہوتا ہے۔