آداب حیات

by Other Authors

Page 282 of 287

آداب حیات — Page 282

۲۸۲ ارشادِ خداوندی ہے۔ايما تُوَلُو الثَّمَّ وَجُدُ اللهِ (سورة البقره : ۱۱۶) ترجمہ ا کہ جہاں کہیں تم پھرو گے وہاں اللہ کی توجہ ہوگی۔اگر مسافر کا پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو ظہر - عصر اور عشاء کی نماز کے چار فرضوں کی بجائے دو فرض ادا کرے گا۔اگر اہم مقیم ہو اور مسافر اس کی اقتداء میں نماز پڑھ رہا ہو اس صورت میں سافر کو پوری نماز امام کی اتباع میں پڑھنی ہوگی۔اور اگر امام مسافر ہو تو وہ دو رکعت نماز پڑھے گا اور اس کے مقیم مقتدی کھڑے ہو کر بقیہ رکھتیں پوری کر کے سلام پھیریں گئے حضرت ابن عباس سے بڑی ہے کہ رسول خدا صل اللہ علیہ وسلم حالت سفر میں تھانہ ظہر و عصر کو اور نماز مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھ لیا کرتے تھے۔د تجرید بخاری حصہ اول (ص ۲۳) حضرت ابن عمر یہ فرماتے ہیں کہیں نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کیا تو سفر میں بہت رہا ہوں گمرہ میں نے آپؐ کو سفر میں نمانہ نفل پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃ الاحزاب : ۲۲) ہے تک تمہارے لئے اللہ تعالے کے رسول کے افعال ایک اچھی اقتدا ء ہے تجرید بخاری حصہ اول (۲۳۲) حضرت عامر بن رہیں نہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سول کریم صلی الہ علیہ سلم کو دیکھا کہ آپ رات کو سفر میں اپنی سواری پر نفل نماز پڑھا کر تے تھے۔جس طرف وہ جارہی تھی۔داگر چہ اس کا رخ غیر قبلہ ہو جاتا) ) تجرید بخاری حصہ اول صب (۲۳۳)