آداب حیات — Page 281
حضور دوران سفر صحابہ کرام کا خیال رکھا کرتے تھے حدیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ ملک سلم سفر میں چلتے پیچھے ہو جایا کرتے۔کمر اور سواری کو ہانکتے اور کسی کو اپنے پیچھے چڑھا لیا کرتے اور ضعیف کے لئے دعا کرتے۔ارا بود او د کتاب الجہاد باب في المزوم الساقة) حضرت جابہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ کا ارادہ کیا۔پس فرمایا۔اے مہاجرو! اے جماعت انصار تمہارے بھائیوں میں سے ایسے بھی ہیں جن کے پاس مال نہیں اور نہ ان کی برادری ہے پس مناسب ہے کہ تم میں سے ہر ایک دو دو، تین تین آدمی اپنے ساتھ ملالے پس ہم میں سے کسی کے پاس سواری نہ تھی۔مگر یہ کہ ایک دوسرے کے بعد باری باری سوار ہوتے تھے۔(ابو داؤد کتاب الجہاد باب الرجل تجمل بمال غيره يغزوا) ۱۵ - جس مقصد کے لئے سفر اختیار کیا گیا ہے اگر وہ پورا ہو جائے تو جلد گھر واپس لوٹ آنا چاہیے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سفر عذاب کا کیڑا ہے۔تم کو کھانے پینے سونے سے روکتا ہے۔سو جب اپنا مطلب پورا کر لو تو گھر کو واپس آنے میں جلدی کیا کرو۔014 دبخاری کتاب العمرة باب السفر قطعة من العذاب) سفر کے دوران بھی نماز ادا کرنی ضروری ہے۔سفر میں اگر پانی نہ ہو تو تیم کے ساتھ ہی نماز ادا کی جائے۔سفر میں وتر اور فجر کی دوسنتوں کے علاوہ باقی نہیں معاف ہو جاتی ہیں۔نفل پڑھے یا نہ پڑھے یہ انسان کی مرضی ہے۔سفر میں نمازہ جمع کرنا بھی جائز ہے۔قبلہ اگر معلوم نہ ہو سکے تو جدھر سواری کا رخ ہو اس طرف ہی منہ کر کے نماز پڑھ لینی چاہیے۔