آداب حیات

by Other Authors

Page 249 of 287

آداب حیات — Page 249

۲۴۹ عیادت کے آداب اللہ تعالیٰ روف درحیم ہے۔اس کی رحمت کی کوئی حد نہیں ہے۔جیسا کہ وہ نخود فرماتا ہے۔رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُل شي ( سورة الاعراف : ۱۵۷) کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔اپنے بندوں پر اس کا لطف واحسان اور فضل وکرم بے انتہا ہے۔اور بیمار بندوں پر اس کی شفقت ورحمت اس طرح عیاں ہے کہ اس نے انہیں بعض فرائض کی ادائیگی میں ان کی بیماری اور تکلیف کے بڑھ جانے کے سبب رخصت دے دی۔جیسا کے سورۃ المائدہ آیت نمبرے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِن كُنتُم مَّرَضى۔۔۔۔۔۔۔۔۔که اگر تم بیار ہو تو میم کر لیا کر و یعنی تم پاک مٹی کا قصد کرو اور اس سے کچھٹی لے کر اپنے مونہوں اور اپنے ہاتھوں کو لو۔اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی نگی نہیں کرنا چاہتا۔پھر سورۃ المزمل آیت نمبر ۲۱ میں بیماروں کو نماز تہجد کو ادا کرنے میں سہولت عطا فرمائی اور فرمایا عَلِمَ اَن سَيَكُونَ مِنْكُم مَّرْضى (سورة المزمل : (۲۱) کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار بھی ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی صفات کا منظر اتم تھے۔آپ مخلوق خدا کی ہمدردی و شفقت میں مہرباں ماں سے بھی بڑھ کر شفیق تھے۔آپ نے مسلمانوں کو بیماروں کی عبادت کرنے کی خاص تاکید فرمائی اور اس کے آداب بھی سکھائے عیادت ایک مذہبی فریضہ ہے اور مذہبی حیثیت سے کھل کر اس کی ابتدار انس