آداب حیات

by Other Authors

Page 245 of 287

آداب حیات — Page 245

۲۴۵ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے کو دینے یا نہ دینے کا اختیار ہے۔اسبخاری کتاب الاطعمه باب من نادل او قدم على صاحبه على المائدة تنيعا ) ۱۳ - کھانا آنے پر بے صبری، جلدی بازی اور حرص کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ بڑے وقار کے ساتھ مہذبانہ طریقے سے کھانا کھانا چاہیئے، اور نہ ہی کھاتے وقت منہ سے آوازیں نکالنی چاہئیں۔کیونکہ اس سے دوسرے شخص کو کوفت ہوتی ہے۔۱۴- جب کسی دعوت میں جائیں تو اپنے نزدیک اور سامنے کے کھانے سے حصہ لینا چاہیئے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو سالن سامنے ہوتا اُسی میں ہاتھ ڈالتے ادھر اُدھر ہاتھ نہ بڑھاتے تھے ، اور اس سے اوروں کو بھی منع فرماتے تھے۔اور فرماتے گُل مِمَّا یلیک کہ جو تیرے سامنے ہے اسے کھا۔رریاض الصالحين كتاب الطعام باب الأمر في الأكل من جانب القصة۔۔۔۔) ۱۵ دعوت میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئیے جس سے دوسروں کو گھن آئے صلی اللہ کی ولی کار کو ان رہتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا زیادہ کیوں کھا جاتے ہو۔دعوتوں میں کھانے کو ضائع نہیں کریں اپنی پلیٹ میں اتنا ہی ڈالیں جتنی آپ کو کھانے کی چاہت ہے اور پھر اپنی پلیٹ کو صاف کریں اس میں کھانا نہ بچائیں۔-14 ر ابن ماجہ کتاب الاطعمة باب الاقتصاد في الأكل وكراهته الشجع) حضرت جابر بن عبد اللہ منہ سے روایت کہ نبی کریم صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کھانے کے بعد یدین کو چاٹ کر صاف کر دیتا ہے تو وہ برتن اس کے حق میں پڑھا کرتے ہیں دار می کتاب الاطعمۃ باب فی الحق الصفحة) کھانے سے فارغ ہونے کے بعد الحمد للہ پڑھنی چاہیے اور صاح خانہ کے لئے دُعا کرنی چاہیئے۔۱۸- کھانے سے فارغ ہونے کے بعد دو پہر تک وہاں نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ