آداب حیات

by Other Authors

Page 241 of 287

آداب حیات — Page 241

۲۴۱ دعوتوں کے آداب اسلامی تمدن کی بنیاد حقیقی مودت و اخوت پر ہے۔اس محنت اور اخوت کو بڑھانے کے لئے اور آپس میں برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔شادی بیاہ کے مواقع ہوں یا خوشی کی تقاریب ہوں انسان اپنی خوشیوں میں اپنے عزیز و اقارب، ہمایوں اور ملنے جلنے والوں۔کو شریک کرنے کے لئے دعوتیں کرتا ہے۔وہ اپنی خوشیوں کو صرف اپنے ایک محدود نہیں رکھتا بلکہ اپنی خوشیوں کو تقسیم کرتے ہوئے محبت اور تعاون کی فضاء میں وہ دعوتوں کا اہتمام کرتا ہے۔پارٹیاں اور دعوتی جلسے ہماری معاشرت کا ایک اہم حصہ ہیں۔محلہ داری کا بھی یہ اہم فریضہ ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً دعوتوں کے سامان پیدا کرے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محبت بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔دعوتی جلسوں کا قیام اسلامی تمدن پر گہرا اثر ڈالتا ہے اور معاشرہ کی بھی احسن رنگ میں تکمیل ہوتی ہے اس لئے اسلام نے دعوتوں اور تقاریب کے لئے بھی آداب سکھائے تاکہ انسان ان آداب پر عمل پیرا ہو کر اپنی دعوتوں کو حقیقی کہ جنگ میں خوشیوں کی تقاریب بنا سکے۔-1 جب کوئی شخص دعوت پر بلائے تو اس کی دعوت کو قبول کرنا چاہئیے کیونکہ دعوت کا قبول کرنا انسان کی باہمی محبت کی علامت ہے اور آپس میں پیار کے اظہار کی نشانی ہے۔