آداب حیات — Page 239
۲۳۹ اگ ڈال رہا ہوتا ہے۔حضرت عبداللہ بن زید سے روایت ہے کہ ہمارے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ہم نے آپ کے لئے کانسی کے برتن میں پانی ڈال دیا۔اس سے آپ نے وضو کیا۔(بخاری کتاب الوضو باب الوضوء من الثور) عبد الرحمن بن ابی لیلی سے مروی ہے کہ ہم لوگ خلیفہ " کے پاس بیٹھے تھے۔انہوں نے پانی مانگا۔ایک مجوسی ان کے پاس پانی لے کر آیا۔جب یہ پیالہ ان کے ہاتھوں میں رکھا تو انہوں نے اس کو پھینک دیا اور کہا کہ اگر میں اس کو ایک یا دو مر تبہ منع نہ کر چکا ہوتا تو البا نہ کرتا ( یعنی پیالہ کو نہ پھینکتا میں نے آنحضرت کو فرماتے ہوئے سنا کہ ریشم اور دیباج نہ پہنو اور نہ سونا چاندی کے برتن میں پانی پیو اور نہ ان کی رکا ہوں میں کھاؤ۔اس لئے کہ دنیا میں یہ کفار کا سامان ہے اور ہمارے لئے آخرت میں ہے۔دبخاری کتاب الاشربة باب الشرب في اليفة الذهب) ا۔پینے کی چیز اگر پیش کرنی ہو تو ہمیشہ دائیں جانب سے اس کی ابتدا کرنی چاہیئے۔کیونکہ دائیں جانب بیٹھنے والے شخص کا حق پہلے ہے۔حضرت سھل بن سعد سے روایت ہے کہ آنحضرت کی خدمت میں پینے کی چیز لائی گئی۔آپ نے اس میں سے پیا۔آپ کی دائیں جانب ایک لڑکا بیٹھا تھا اور باتیں طرف بوڑھے بوڑھے آدمی بیٹھے تھے۔آپ نے اس لڑکے سے پوچھا کیا اجازت ہے کہ میں ان بڑی عمر والوں کو دے دوں ؟ لڑکے نے عرض کیا۔نہیں۔بحضور جو عطبہ مجھے آپ سے ملے۔وہ میں کسی کو نہیں دینے کا۔پس رسول کریم نے اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ا مسلم کتاب الاشربہ باب استحباب ادارة الماء واللين على اليمين المبتدى) پینے کی چیزوں کو بھی ڈھک کر رکھنا چاہیئے۔