آداب حیات — Page 203
۲۰۳ ۱۵۔ملاقات کے بعد مجلس سے یا گھر سے اہل خانہ کی اجازت کے ساتھ واپس جانے کے لئے اٹھنا چاہیئے اور جب اہل خانہ اُٹھ جائے تو پھر اُٹھ کر واپس چلے جانا چاہئے۔-14۔دوپہر کے وقت کسی کے گھر ملاقات کے لئے نہیں جانا چاہیئے۔آنحضرت سلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جانے سے اجتناب فرماتے تھے حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنے والدین کو دیندار ہونے کے سوا کچھ نہیں پایا اور کوئی روز ایسا نہیں گزرتا تھا جس کے دونوں کناروں یعنی صبح وشام کے وقت نبی کہ تم میرے والدین کے پاس تشریف نہ لاتے ہوں۔میں ایک دن حضرت ابو بکر کے گھر میں ٹھیک دوپہر کے وقت بیٹھی ہوئی تھی کہ کسی نے کہا کہ رسول کریم ایسے وقت میرے پاس تشریف لارہے ہیں کہ اس وقت کبھی نہیں آئے حضرت ابو بکرہ نے فرمایا کہ ایسے وقت میں آپ کسی ضروری اور اہم کام کے سبب سے تشریف لہ ہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کا حکم مل گیا ہے۔از بخاری کتاب الادب باب هل يزور صاحبه كل يوم او بكرة وعشيا ) راشد ضرورت پڑنے پر دوپہر کے وقت جایا جاسکتا ہے) ۱۷۔بزرگوں کی ملاقات کے لئے جائیں تو ادب کے ساتھ ان کو سلام کریں اور ان کی گفتگو کا بھی ادب کے ساتھ جواب دیں۔ملاقات کے وقت ان کے گھٹنوں اور پاؤں کو ہاتھ لگا کر چھونا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ نفس کی ذلت کی حالت ہے۔ہاں برکت کی خاطر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دینا جائز ہے۔اور ان کو نذرانہ پیش کرنا بھی جائز ہے۔کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور دعا کرنے کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔۱۸۔ناراضگی کی وجہ سے تین رات سے زیادہ ترک کلام و ملاقات نہیں کرنی چاہیئے۔حضور کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن رات سے زیادہ ترک ملاقات کرے۔(بخاری کتاب الادب باب الهجرة)