آداب حیات — Page 202
٢٠٢ ا در کعب بن مالک نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔طلو بن عبید اللہ شیری طرف جلدی سے اُٹھ کر آئے۔یہاں تک کہ مجھے سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔ربخاری کتاب الاستیذان باب المصافحه) عمرو بن عاصم قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے انس منہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کا رواج تھا۔انہوں نے کہا۔ہاں۔ا بخاری کتاب الاستیذان باب المصافحه) حضرت عبد اللہ بن ہشام سے مردی ہے۔انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک مرتبہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ اُس وقت حضرت عمر بن خطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے دینجاری کتاب الاستیذان باب المصافحه) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جب اہل میں آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر فرمایا۔تمہارے پاس اہل ہمیں آئے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کو رواج دیا تھا۔(ابو داؤد کتاب الادب باب فی المصافحہ) ایک دفعہ حضور اکرم نے حضرت ابو ذر صحابی کو بلا بھیجا۔تو وہ گھر میں نہ ملے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ حاضر خدمت ہوئے۔تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ان کو دیکھ کہ آپ اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے سینہ سے لگا لیا۔رابو داؤد - کتاب الادب باب المعالقه) حضرت جعفر حب حبشہ سے واپس آئے تو آپ نے ان کو گلے لگا لیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ابو داؤد کتاب الادب باب في قبلة ما بين العينين)