آداب حیات — Page 183
IAW نیم عریانی قائل اخلاق ہے۔اس لئے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔۴۔لباس میں ہمیشہ سادگی کو ملحوظ رکھنا چاہیئے۔لباس میں بے جا آرائش اور تصنع و تکلف مردوں کو شایاں نہیں۔ہادی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ لباس فاخرہ ترک ایمان کا ایک حصہ ہے۔(ریاض الصالحين كتاب اللباس باب تحریم لباس الحرير على الرجال ) حضرت معاذ بن انس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تواضعا ملہ یادجو و قدرت کے لباس فاخرہ چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کو ان لوگوں کے روبرو کر کے فرمائے گا۔ایمان کے لباس میں سے جو لباس تو چاہتا ہے پسند کر کے پہن لے۔رتمندی ابواب صفته القیامه باب نمبر (۳۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی آپ کے قول مبارک مَا أَنَا مِنَ الْمُتَّقِينَ رکر میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ) کے مطابق گزری۔لیاس میں بھی آپ تکلف کو نا پسند فرماتے تھے۔آپ کا عام لباس قمیص، تہمد اور چادر ہی ہوتا تھا۔آپ کی وفات کے وقت آپ کا لباس فقط ایک پیوند کی ہوئی چاد را در ایک موٹا تہد تھا۔سلم کتاب اللباس باب التواضع في اللباس) لباس میں بے جا نمائش کو آپ نا پسند فرماتے تھے۔یہی سادگی امتحات المومنین بن کی ساری زندگی پر چھائی نظر آتی ہے۔ه باکس پر فضول خرچ کرنا نہیں چاہیئے کیونکہ اسلام باس کے بارے میں اسراف سے روکتا ہے اور میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔اللہ تعالٰی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔جیسا کہ سورۃ الاعراف میں ارشاد ربانی ہے۔إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ O (سورۃ الاعراف : ۳۲)