آداب حیات — Page 182
TAY اور اپنے کپڑوں کو پاک وصاف رکھو۔حقیقت یہ ہے کہ صاف ستھرے باس میں انسان معزز لگتا ہے۔نماز جوڑ ھانی ترقیات کا سرچشمہ ہے اس کی ادائیگی کے لئے لباس کا پاک وصاف ہونا ضروری ہے۔۲ لباس ایسا تنگ نہیں پہننا چاہیئے کہ ہاتھ اور پاؤں نہ بلائے جاسکیں۔بادی اعظم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے روکا ہے کہ چاور یوں لپیٹ کر اور ھی جائے کہ ہاتھ نماز یاکسی اور کام کے لئے نکل سکیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر ۳ ص ۲۹۳ مطبوعه مطبع میمینه مصر۔اب اس کی اصل غرض پردہ پوشی ہے۔اس لئے ایسا لباس پہنا جائے جو کا ملی متر پوش ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ وہ عورتیں جو کپڑوں میں بھی عریاں ہیں۔غیر مردوں کی طرف مائل ہوتی ہیں اور انہیں دعوت میلان دیتی ہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو ہی پائیں گی۔حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی مسافت سے آئے گی۔موطا کتاب الجامع باب ما يكره النساء لباسه من الشياب وہ عورت میں جو لباس کا حق بجا نہیں لاتیں ان کے متعلق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دنیا میں کتنی ہی ایسی ملبوس عورتیں ہیں جو قیامت کے دن ننگی ہوں گی۔ا موطا کتاب الجامع باب ما يكره النساء لباسه من الثياب بمر ایک مرتبہ حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ کے پاس آئیں۔حفصہ باریک اوڑھنی پہنے ہوئے تھیں۔حضرت عائشہ نے اسے لے کر چاک کر دیا اور حفصہ کو موٹی اور بھنی پہنائی۔(موطا کتاب الجامع باب ما يكره للنساء بأسه من الشباب)