آداب حیات

by Other Authors

Page 165 of 287

آداب حیات — Page 165

140 بات نہیں کروں گی تو سب سے پہلے تو اس کے دومنہ ہو جاتے ہیں۔یعنی وہ بات سنتی ہے اور پھر طیش میں آکر بلا توقف دوسری خاتون پر حملہ آور ہوتی ہے۔دھاوا بول دیتی ہے اس پر۔اور اس کا سارا عہد کہ خاموش رہوں گی اپنے تک محدود رکھوں گی جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔تو اس کے دومنہ بن گئے اور جو سنانے والی ہے اس کے پہلے ہی دومنہ ہو چکے ہیں۔کیونکہ جب وہ مجلس میں میٹھی تھی تو امانت کے لحاظ سے بات ہو رہی تھی اور اگر واضح طور پر یہ نہیں بھی کہا گیا تھا تو ایک عام دستور سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایک انسان جب کسی تیسرے شخص کے متعلق کسی سے بات کرتا ہے جو کچھ نا پسندیدہ پہلو رکھتی ہے نو اس یقین اور اعتماد پر کر تا ہے کہ یہ بات آگے نہیں پہنچائے گا اور نہ اگر پہنچانی ہو تو وہ کیوں نہ پہنچا دے۔تو دومنہ سے بات شروع سے ہی چل رہی رہے۔ایک سننے والے کے دومنہ جس نے آگے دوسرے منہ سے بات پہنچائی پھر جس نے اس سے بات سنی اُس کے دومنہ بن گئے اور پھر جب وہ پاس پہنچے گی لڑنے کے لئے تو پھر یہ دو منہ آگے دومنہ آگے دو دومنہ بنتے چلے جائیں گے۔وہ کہے گی جھوٹ بول رہی ہے میں نے یہ تو نہیں کہا تھا۔میں نے تو یہ کہا تھا۔اور وہاں سے پھر جھوٹ کا تیسرا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور بسا اوقات اس نے کہا بھی ہو تو پھر دوسرے معنے پہنانے کی کوشش کرتی ہے۔بعض وقعہ پھرا سے بھی جھوٹا کر دیتی ہے پھر وہ آتی ہے لڑتی ہوئی کہ تم نے یہی کہا تھا ، وہ کہتی ہے میں نے یہ نہیں کہا تھا۔تو ایک منہ جب پھٹ کے دومنہ بنتا ہے تو پھر پھٹتا چلا جاتا ہے اس کا پھر ایک منہ بننا بہت ہی مشکل کام ہے اور ایسے منادات میں سب سے زیادہ مشکل پڑتی ہے فیصلہ کرنے کی۔کیونکہ ہر گواہی مٹی ہوئی ہے اور اگر وہ مان بھی جائے کچھ حصہ تو کہے گا میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔میرا تویہ تھا۔