آداب حیات

by Other Authors

Page 141 of 287

آداب حیات — Page 141

۱۴۱ کہ تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کیا کریں۔کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا بلاگر تمہاری طرف یہ بات منسوب کی جائے تو تم اس کو نا پسند کر دگے۔سورۃ الھمزہ میں ارشاد ہے وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَرة ) ( سورة الهمزة : ٢) ہر غیبت کرنے والے اور عیب چینی کرنے والے کے لئے عذاب ہی عذاب ہے۔پر حقیقی یا فرضی عیوب بیان کرنا اور سفیانہ کلام کرنا گناہ ہے محض طعن اور مغرور کی وجہ سے ایسا کرنا گناہ ہے لیکن دین کے دشمنوں اور غداروں کے متعلق آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے اور اہل فساد کی برائی کا بیان جائز ہے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی کریم کے حضور حاضری کی اجازت چاہی۔فرمایا۔اس کو اذن دے دو۔یہ اپنی قوم کا برا آدمی ہے اسخاری کتاب الادب باب يجوز من اغتياب اہل النساء) جب کسی سے مشورہ مانگا جائے تو اس کے علم میں جو صحیح بات ہے پیش کرنی چاہیئے۔حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ میں رسول کریم کے پاس آئی اور کہا کہ ابو جہیم اور معادیہ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے۔آپ نے فرمایا۔معادیہ مفلس فلاکش ہے۔اس کے پاس کچھ مال نہیں اور ابو جہیم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارنا ( مارنے والا یا اکثر سفر میں رہتا ہے) (مسلم کتاب الطلاق باب المطلقة البائن لا نفقة لها) چغلی کرنا تہمت لگانا۔اور نسب میں طعن کرنا کفر کی علامت ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔و گفتگو کے دوران کسی کی حقارت کے ساتھ ہنسی نہ اُڑائی جائے۔اللہ تعالیٰ مومنوں کو اس برائی سے روکتے ہوئے فرماتا ہے۔