اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 14
28 27 طاقتیں ہیں یا علم ہے یا اوقات زندگی ہیں ان سب میں سے خدا اور جماعت کا حصہ نکالیں اور خصوصاً انہیں بچپن میں ہی اپنے ہاتھ سے چندہ دینے اور غریبوں کی مدد کر نے اور جماعتی کاموں میں اپنے وقت کا حصہ خرچ کرنے کا عادی بنائیں۔یہ حکم نماز کے بعد اسلام کا دوسرا ستون ہے اور اس کے بغیر کوئی شخص حکومت الہی کی لڑی میں پرویا نہیں جا سکتا۔ہفتم ماؤں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو ہمیشہ شرک خفی کے گڑھے میں گرنے سے ہوشیار رکھیں۔دنیا کی ظاہری تدبیروں کو اختیار کرنے کے باوجود ان کا دل ہر وقت اس زندہ ایمان سے معمور رہنا چاہیے کہ ساری تدبیروں کے پیچھے خدا کا ہاتھ کام کرتا ہے اور ہشتم وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے بچوں کو ماں باپ اور دوسرے بزرگوں کا ادب سکھایا جائے۔خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار اور ہمسایہ ہوں یا اجنبی۔ادب دینی طریقت کی جان ہے۔اور پھر بچوں کے اندر خصوصیت سے والدین کی اطاعت اور خدمت اور احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے۔اس کی طرف سے غفلت برتنے کو ہمارے آقا نے اسلام میں گناہ نمبر 2 شمار کیا ہے۔تہم ہر احمدی ماں کا فرض ہے کہ وہ بچوں میں سچ بولنے کی عادت پیدا کرے۔صداقت تمام نیکیوں کا منبع اور جھوٹ تمام بدیوں کا مولد ہے سچ بولنے والا بچہ خدا کا پیارا اور قوم کی زینت اور خاندان کا فخر ہوتا ہے اور قول زور سے بڑھ کر اخلاق میں پستی پیدا کرنے والی اور بدی کے ناپاک انڈوں کو سینے والی کوئی چیز نہیں۔دہم ماں باپ کا فرض ہے کہ ہمیشہ اپنی اولاد کی تربیت کے لئے خدا کے حضور دُعا کرتے رہیں کہ وہ انہیں نیکی کے رستہ پر قائم رکھے اور دین و دنیا کی ترقی عطا کرے اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔یہ وہ دس بنیادی باتیں ہیں جو اولاد کی تربیت کے لئے نہایت ضروری ہیں۔اور یہ وہ بیج ہے جو احمدی ماؤں کے ہاتھوں سے ہر احمدی بچے کے دل میں بویا جانا ضروری ہے ورنہ گو خدا کے رسول تو بہر حال غالب ہو کر رہتے ہیں۔مگر کم از کم جہاں تک انسانی کوشش اور ظاہری اسباب کا تعلق ہے جماعت کی ترقی ایں خیال است و محال است و جنوں احمدی ماؤں سے دردمندانہ اپیل پس اے احمدی ماؤ ! تم پر ایک بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔تمہارے ہاتھوں میں قوم کے وہ نونہال پلتے ہیں جو آج کل کے جوان ہیں۔آج کے بیٹے اور کل کے باپ ہیں۔آج کے تابع اور کل کے متبوع ہیں۔آج کے محکوم اور کل کے حاکم ہیں۔عنقریب ان کے ہاتھوں میں سلسلہ کے کاموں کی باگ ڈور جانے والی ہے۔پس اپنی اس نازک ذمہ داری کو پہچانو اور اپنے بچوں کی زندگیوں کو ایسے قالب میں ڈھال دو کہ جب ان کا وقت آئے تو وہ آسمانِ ہدایت پر ستارے بن کر چمکیں تم شاید خود بھی اپنی قدر کو نہ پہچانتیں مگر تمہارے رسول نے تمہاری قدر کو پہچانا ہے اور تمہیں اپنی محبوب ہستی قرار دیا