میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 7
وو شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جدائی بصبر ) بچے تیری بیوی دیکھ کر آئی ہوں لڑکی کیا ہے جنت کی حور ہے۔“ رض حضرت برکت بی بی صاحبہ حضرت ام المومنین سے بہت محبت اور عقیدت رکھتی تھیں آپس میں سہیلیوں کی طرح پیار تھا ان کی خدمت میں رہنے کے لیے بار بار قادیان آتیں۔آکر الدار میں ٹھہر تیں۔آپ نے قادیان کے قریب آنے کی خواہش میں قادیان کے جنوب میں آدھ میل کے فاصلے پر ایک گاؤں منگل باغباناں میں ایک مکان لیا اور بچوں کے ساتھ اُس میں منتقل ہو گئیں۔قادیان قریب تر ہو گیا مگر اتنی دوری بھی گوارا نہ ہوئی اور بالآخر 1916 - 1917ء میں یہ خاندان ہجرت کر کے قادیان آبسا۔قادیان کے جس محلے میں آپ نے مکان بنایا اس کا نام حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے محلہ دار الفضل، اور آپ کے مکان کا نام فضل منزل رکھا۔قادیان آ کر آپ کا انتقال ہو گیا اللہ پاک نے پانچ بیٹیوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا تھا۔حضرت صاحب کی تحریک اور تجویز پر میاں صاحب کی دوسری شادی محترمہ صوباں بیگم صاحبہ سے ہوئی جن کے اپنے پہلے شوہر سے تین بچے تھے۔دو بچے یہاں آ کر ہوئے۔موصوفہ بہت نیک فطرت، خدا ترس، غریبوں کی ہمدرد اور ہر ایک سے حسنِ سلوک کرنے والی تھیں، آپ کے مزاج میں جو پیار محبت تھا اُس نے گھر میں پیار محبت کی فضا بنائی ہوئی تھی۔عبدالرحیم بہت ذہین طالب علم تھے۔جماعت چہارم میں وظیفہ کے امتحان کے لیے منتخب ہوئے۔امتحان کی خوب تیاری تھی۔ایک بزرگ استاد نے جائزہ لیا تو اس 7