میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 6
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) آمنہ بیگم ابھی کم سن تھیں کہ والدہ کی وفات ہوگئی۔بڑے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو چکی تھیں گھر کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہ تھا نمی بچی کو گھر سنبھالنا پڑا۔گھر کا کام کرنا بہت مشکل تھا روٹی بنائی نہیں آتی تھی آئے کے گولے سے بنا کر کوئلوں پر ڈال دیتیں پھر باپ بیٹی اوپر سے جلا ہوا حصہ چھیل کے کھالیتے۔گاؤں میں احمدیت کی مخالفت بہت زیادہ تھی بعض دفعہ اشیائے خور و نوش حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا۔ان حالات میں سکول جانا مشکل تھا ابتدائی تعلیم بھی حاصل نہ کر سکیں۔مکرم عبدالرحیم صاحب حضرت اقدس علیہ السلام کے صحابی حضرت میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے کے دوسرے بیٹے تھے۔میاں صاحب اور ان کی اہلیہ حضرت برکت بی بی صاحبہ نے 1896ء میں احمدیت قبول کی تھی آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود نے ایک خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے خدائے قادر کی طرف سے برکات کے دگنی ہونے کا مژدہ دیا تھا۔حکیم صاحب کی طرف سے رشتے کی بات کے سات آٹھ سال بعد حضرت میاں صاحب کو خیال آیا کہ حکیم صاحب نے رشتہ بھیجا تھا ان کو ہاں تو کر دی تھی لڑکی کو دیکھنا بھی چاہیے۔چنانچہ آپ کی اہلیہ حضرت برکت بی بی صاحبہ اپنی ایک قریبی عزیزہ کے ساتھ پیتے ہالی گئیں۔بچی کو حسن صورت اور حسن سیرت سے مزین دیکھ کر خوش ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر بات پکی کر آئیں۔کوئی رسم ادا نہ کی۔والدہ صاحبہ نے گھر آ کر اپنے بیٹے عبدالرحیم کو اپنے پاس بلا یا گود میں لے کر بڑے پیار سے منہ چوما اور ہلکی سی پیار بھری تھکی لگاتے ہوئے کہا: 6