میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 70
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) مرحومہ نہایت نیک، عابدہ زاہدہ اور دعا گو خاتون تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت حکیم اللہ بخش صاحب آف پتے ہالی ضلع گورداسپور کی بیٹی تھیں۔مرحومہ کے خاوند محترم در ویش تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی قادیان میں بطور درویش مقیم ہیں۔مرحومہ نے گذشتہ 29 برس کا یہ طویل عرصہ بڑے صبر وشکر کے ساتھ محض رضائے الہی کی خاطر اپنے شوہر کی جدائی میں گزارا۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے خاص فضلوں سے نوازا۔اس عرصہ میں آٹھ بچوں کی شادیاں ہوئیں وہ سب پھلے پھولے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد سے اور دیگر دینی و دنیوی نعمتوں سے نوازا اور آپ نے اپنے وسیع خاندان کے درمیان ایک مرکزی شخصیت کی حیثیت سے زندگی گزاری۔تین بیٹوں میں سے ایک مکرم مولوی عبد الباسط صاحب شاہد بطور مبلغ اسلام کینیا ( مشرقی افریقہ) میں دینی خدمات بجالا رہے ہیں۔دو بیٹے مکرم عبدالمجید صاحب نیاز اور مکرم عبدالسلام صاحب طاہر حیدرآباد (سندھ) میں مقیم ہیں۔پانچ بیٹیاں (امتہ اللطیف صاحبہ اہلیہ شیخ خورشید احمد صاحب نائب ایڈیٹر روز نامہ الفضل ربوہ، امۃ الرشید صاحبہ اہلیہ صادق محمد صاحب ایم اے ٹیچر احمد یہ سیکنڈری سکول بو سیرالیون، امتہ الحمید صاحبہ اہلیہ عبدالسلام صاحب ظافر ایم اے پر نسپل احمد یہ سیکنڈری سکول وار و سیرالیون، امتہ الباری صاحبہ اہلیہ ناصر احمد صاحب قریشی ڈائریکٹر محکمہ ٹیلیفون کراچی۔امتہ الشکور صاحبہ اہلیہ محمد ارشد صاحب ایم ایس سی کیمبیا سیرالیون ) اور بہت سے پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں مرحومہ کی یادگار ہیں۔70