میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 63
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اس خاتون نے ایک بچے کی تعلیم و تربیت کی جبکہ اشرفیوں کی تھیلی بھی اس کے پاس موجود تھی مگر میری بیوی نے میرے آٹھ بچوں کی تعلیم و تربیت کی جب کہ میں تو اسے کوئی تفصیلی بھی نہ دے سکا تھا۔قدردانی کے تحریری ثبوت دیکھئے: تمہاری امی نے میرا وہ ساتھ دیا۔وہ احسان کئے۔وہ وفا کی وہ دلجوئی کی ایسی غمگساری دکھائی کہ میں ساری عمران کے سامنے شرمندہ رہا اور احسان مند رہا اور اب بھی تازیست دعا گو ہی رہوں گا۔میرا گھر ان کی آمد سے برکتوں سے بھر گیا میری ساری اُمیدیں ان کی دعاؤں سے پوری ہو ئیں میرے غم میں دل سے شریک ہو کر بے مثال غمگساری کرتیں میں ان کی یاد میں آنسو ہی نہیں خون کے آنسو بہاتا ہوں۔“ ”اپنی والدہ کا ادب ملحوظ رکھیں اس کا درجہ رابعہ بصری جیسا ہے۔بڑی ہی صالح عورت ہے گو آپ کے باپ نے اتنی قدر نہ کی جو حق تھا لیکن اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ یہ کس قدر اخلاق فاضلہ کی مالک ہے اللہ تعالیٰ ہی جزا دے۔میں تو اس کا ممنون احسان ہوں اس نے میری دنیا بسادی ہے بلکہ بنادی ہے۔اس نے مجھے دین میں پیش پیش کیا جو کچھ ہوا اس کا اور جو کچھ ہوگا اس کا۔ہاں اگر مجھے کچھ ملا ہے تو اس کے طفیل۔انشاء اللہ حالات بدلیں گے زمانہ کروٹ لے گا اپنی نیرنگیاں دکھائے گا مگر بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا اور آمنہ اس کی مثال ہے“ 63