میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 43 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 43

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک۔جدائی ،صبر رشیدہ اور حمیدہ سے ملاقات ہو گی۔شکور بھی ابا کو دیکھے گی سلام ہمیں سلام کرے گا۔باسط میاں والدہ کے بغیر نہ آئیں۔اُن سے بھی ملاقات ہو 66 جائے گی۔“ خاردار تاروں سے گھرے ہوئے ایک میدان میں فاصلے فاصلے سے چادر میں بچھا کر بیٹھے سینہ چاکان وطن سے سینہ چاک ملے اور کچھ گھنٹوں کے بعد پھر غیر معینہ مدت کے لیے بچھڑ گئے۔ہمارے والد ہمارے مربی جماعت کی محبت کا درس آپ کے ہر عمل اور رد عمل سے مترشح تھا۔سوچ کے زاویوں کو بھی بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔جب بھائی جان عبدالمجید نیاز صاحب اور عبدالباسط صاحب جامعہ احمدیہ میں پڑھتے تھے جو اس وقت احمد نگر میں تھا۔کسی وجہ سے بھائی جان باسط کا وظیفہ روک لیا گیا۔ابا جان کا طبعی رد عمل تو یہ بھی ہوسکتا تھا کہ میں درویش ہو گیا ہوں بیوی بچے اللہ تعالیٰ کے سپرد کیے ہیں جماعت نے یہ کیسا فیصلہ کیا ہے کہ میرے بچے کا وظیفہ روک لیا۔وغیرہ وغیرہ۔مگر ایک فنافی اللہ متوکل انسان کا رد عمل دیکھیے۔تحریر کرتے ہیں:۔۔۔۔۔۔13 ستمبر 1950ء عزیز باسط کے وظیفہ کی فکر کیسی۔احمدی ہے یار کی رضا میں راضی رہے۔یہ تو ہے بھی اللہ والا۔اگر وظیفہ بند ہوا اس پر بھی خوش ہونا چاہیے۔یہ وقت تو انشاء اللہ گزرجائے 43