میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 42 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 42

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) ملی۔لیکن میں آپ کو یہی مشورہ دوں گا کہ یہاں ان کا انتظار کریں کیونکہ وہ تو غیر معمولی تگ و دو اور دعا کر کے بظاہر غیر ممکن کو ممکن کر ہی لیا کرتے ہیں۔۔۔بھائی جان بتاتے ہیں کہ میں بار بار اٹھ کر اٹاری سڑک پر نظر دوڑا تا آخر لمبے انتظار کے بعد دیکھا کہ دور سے سر پر دھوپ کی وجہ سے چھتری لگائے ہاتھ میں کوئی چیز پکڑے کوئی تیز تیز آرہا ہے فاصلہ کی وجہ سے میں ابا جان کو پہچان تو نہ سکا مگر ان کی مخصوص چال، مستعدی اور تیزی دیکھ کر میرا دل کہ رہا تھا کہ ابا جان آرہے ہیں۔میرے اس اندازے کی تصدیق ہونے میں زیادہ دیر نہ لگی وہ بھی اسی آس پر نکلے تھے کہ شاید کوئی آیا ہو۔چند منٹوں کے بعد ہم انتظار، پیار، بیتابی ، شفقت کے سمندر میں غوطے لگا رہے تھے۔ابا جان کے ہاتھ میں آم تھے جو نہر کے پانی میں ٹھنڈے کر کے کھائے اور خوب خوب باتیں کیں۔خوب خوب مزے لیے۔جماعت نے 1950ء میں یہ انتظام کیا کہ پاکستان اور ہندوستان کے بارڈر پر ء سے بچھڑے ہوئے خاندان کچھ گھنٹوں کے لیے مل سکتے ہیں دونوں طرف بہت زیادہ انتظار تھا۔ابا جان نے اپنے تیسرے بیٹے کو پہلی دفعہ دیکھنا تھا اشتیاق میں لکھا: میں انشاء اللہ چار بجے قادیان سے روانہ ہو کر امرت سر رات ٹھہروں گا اور نو بجے دن آپ بارڈر پر تشریف لے آئیں۔والد صاحب محترم کو ضرور لاویں۔اگر ہو سکے تو سب میرے قریبی رشتہ داروں کو میرے آنے کا پروگرام بتا دیں کہ پھر خدا جانے کب ملاقات نصیب ہو انشاء اللہ 42