میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 38 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 38

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) رات کا انتظار کرتا ہوں آنکھیں بند کرتا ہوں وہ میرے قریب آجاتا ہے راز و نیاز کرنے لگتا ہے دلاسا دیتا ہے۔بہت قریب آجاتا ہے۔آپ کی امی ہی کی ہمت تھی اپنے کام بھی کرتی اور مجھے بھی چوکس بیدار رکھتی۔میں تو اُن کے بغیر مٹی کا ایک ڈھیلا بھی نہیں اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل و کرم سے اپنی ستاری سے عمل کی ہمت دے۔یاد آتی ہیں۔دعا کرتا ہوں۔دعا کرتا ہوں دعا کرتا ہوں۔ربَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ * رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْبِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (ابراهیم : 38 )۔۔۔25 / مارچ 1949ء رات حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا خط بنام میاں وسیم احمد صاحب مسجد میں پڑھ کر سنایا گیا۔عجیب الفاظ میں تحریر تھا۔میں اس وقت سجدہ میں تھا ضبط کا دامن چھوٹ گیا ہچکی بندھ گئی خوب دعا کا موقع ملا۔آپ قادیان کی جدائی میں بے قرار ہیں مگر آپ کی آنکھیں یہاں کے اجڑے بازاروں اور گرے ہوئے مکانوں کو نہیں دیکھتیں اور کان ان کی نوحہ خوانی نہیں سنتے ہمیں تو پرانی گہما گہمی اور پرکیف نظارے نظر آتے ہیں جو رلا دیتے ہیں۔مسجد اقصیٰ مسجد مبارک سوئی سوئی ہیں مجلس عرفان کی یاد تر با دیتی ہے الدار میں عام لوگ آجارہے ہوتے ہیں۔بہشتی مقبرہ جاتا ہوں تو راستے میں مکان پکڑ پکڑ کر کہتے ہیں ہم اُجڑ گئے ہمارے ساتھ شریک ماتم ہو۔اللہ کرے سب دعائیں 38