میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 37
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) میری رفیقہ ! میں آپ سے خوش ہوں۔آپ نے خوب تعاون کیا آپ سے یہی امید تھی۔یہ تو ایک عظیم الشان کامیابی کے لئے پرچہ ملا ہے دعا کے ساتھ۔لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَيْتَنَا کے ساتھ اسی کی توفیق سے حل کرتی جائیں“۔۔27 / جون 1949ء " عزیزہ لطیف! آپ کی والدہ نے خربوزہ میٹھا نکلنے پر مجھے یاد کیا میں نے یہاں خربوزے لے کر کھا لئے میں خدا کے احسان سے بخیریت تمام ہوں اور کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔میں گوتم بدھ کو بھی خدا کا مامور مانتا ہوں۔اُس نے راج پاٹ اولا د بیوی سب چھوڑ چھاڑ کر محض عبادت ہی عین مقصود بالذات کر لیا تھا۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اس عرصہ امتحان کو کم سے کم کر دے مگر میرے لعل ! اگر یہ عرصہ اُس کی منشاء سے لمبے سے لمبا بھی ہو جائے تو آپ کے ابا کے پاؤں انشاء اللہ لغزش نہ کھائیں گے۔اب وہ آپ سے ملا دے اور حضور کا دیدار کرا دے اُس کی مہربانی ہے۔ورنہ حالات تو بد سے بدتر ہی خیال کئے جا سکتے ہیں۔دکان کے اندر اصحاب کہف کی طرح رہتا ہوں اندھیرا بہت ہے بارشوں میں پانی اندر آ کر سیلن ہو جاتی ہے۔خدائی نان جن کو مسیحا کے لنگر کی چنے کی دال لذیذ بنادیتی ہے کھا کر مہمان خانے کے چشمے سے پانی پی لیتا ہوں سبحان اللہ کیسی خوشگوار زندگی ہے موت تفصیلی پر ہے مالک حقیقی کے سوا کوئی ڈر نہیں وہ مجھے سب بتادیتا ہے۔یہیں پرسب دکھا دیتا ہے آپ کیسے رہتے ہیں کیا کھاتے ہیں کیا باتیں کرتے ہیں سب بتا دیتا ہے 37