میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 19
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) انتظام ہمارے گھر کی نچلی منزل میں ہوتا تھا اور پھر ہفتہ کے دن صبح قرآن کریم کا درس بھی حضرت فضل عمر وہیں پر دیتے تھے۔وہ ہمیشہ بغیر ناغہ کے جمعہ کی نماز اور درس میں شریک ہونے کے لئے آتیں ویسے وہ گھر سے شاید بہت ہی کم نکلتی تھیں۔ان کی زندگی کا مقصد اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت ہی تھا اُنہوں نے اپنے بچوں کی تربیت نہایت ہی اعلیٰ رنگ میں کی۔دینی تعلیم بھی پھر خدمت دین کا جذ بہ اور دینی غیرت بھی ان کے اندر پیدا کی۔اس پر بس نہیں کی بلکہ اپنی بچیوں کو گھر کا سلیقہ بھی خوب سکھایا۔پھر شادی بیاہ کا بوجھ اُن پر ہی تھا ہر بچی کی شادی دین کو دُنیا پر مقدم رکھنے کے اصول پر کی۔ما شاء اللہ اُن کی سب بچیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں دین بھی ہے اور دنیا بھی۔بہت خوش ہوتی ہوں ان کی بچیوں سے مل کر۔ماشاء اللہ وہ بھی اپنی والدہ کی تربیت کے نتیجہ میں اپنے بچوں کی ویسی ہی تعلیم و تربیت کر رہی ہیں اور خود بھی دینی کاموں میں پیش پیش ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو اور اُن کی قیامت تک کی نسلوں کو خادم دین اور سلسلہ عالیہ احمدیہ سے وابستہ رکھے۔“ اس مختصر سی تمہید کے بعد میں اصل واقعہ کی طرف آتی ہوں یہ واقعہ میرے بہت ہی بچپن سے تعلق رکھتا ہے میں بہت چھوٹی تھی اور نیا نیا سکول جانا شروع ہوئی تھی۔ایک دن آدھی چھٹی کے وقت ہم سب لڑکیاں باہر کھڑی تھیں وہ بہت ہی ستا زمانہ تھا۔بہت سی بچیوں کے والدین اپنی بچیوں کو ہر روز خرچ کے لئے ایک پیسہ دو پیسے دیتے تھے۔کئی 19