آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 67
131 130 سول سرجن میری یہ گستاخی دیکھ کر ترشرو سا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر اور کسی طرح میری مشکل آسان کریں۔“ انہوں نے محض از راہ ہمدردی ایک تمہیں ہم پر اعتبار نہیں ہے اور خود ہی دیکھنا چاہتے ہو تو مریض باہر فٹن میں سر ٹیفکیٹ اُسے دیدیا کہ یہ ڈاکٹر یہاں آکر بیمار ہو گیا ہے۔اسے دس یا پندرہ بیٹھا ہوا ہے وہاں جا کر اُسے دیکھ لو۔میں جو باہر آیا تو فٹن میں ایک نہایت دن کی رخصت دی جائے یہ بیماری کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتا۔“ اس کے بعد گرانڈیل ، سُرخ سفید ، موٹا تازہ انگریز بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اس سے پوچھا ان کا اردہ تھا کہ جب رخصت ختم ہو جائے گی تو مزید توسیع رخصت کا کہ آپ کا مریض جو رخصت پر جانا چاہتا ہے کہاں ہے؟ میری حیرانی کی سرٹیفکیٹ دیدونگا۔مگر جھوٹ کی نحوست سر پر منڈلا رہی تھی۔جب ٹیفکیٹ کو ہاٹ کوئی حد نہ رہی جب اُس شخص نے نہایت متکبرانہ انداز سے جواب دیا کہ وہ پہنچا تو آفیسر کمانڈنگ نے تین ڈاکٹر ایم۔ایس فوراً وہاں سے کیمل پور بھیج میں ہی ہوں۔میں نے کہا۔”آپ کی صحت تو بہت اعلیٰ اور عمدہ ہے۔کہنے دیئے۔وہ دوسرے دن اس بیمار ڈاکٹر کے گھر پر پوچھتے پوچھتے پہنچ گئے۔ڈاکٹر لگا کہ ”مجھے فسچولا (بواسیر) کا مرض ہو گیا تھا۔اُس کا اپریشن میں نے کرا لیا سیر سپاٹے کے لئے بازار گیا ہوا تھا۔جب آیا تو ان کو دیکھتے ہی اس کا رنگ ہے۔اور صحت کے متعلق اُن ڈاکٹروں سے پوچھو جو اندر بیٹھے ہیں۔اُن کے نزدیک میرے لئے ایک سال کا ریسٹ (آرام) ضرور ی ہے۔یہ جھاڑ کھا کر اس نے سول سرجن سے ساز باز کر کے جھوٹا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا ہے۔چنانچہ میں اندر آ گیا اور کہا ”دُنیا میں بہت کم آدمی ہیں جن کی بظاہر ایسی عمدہ صحت ہو جیسی اس مریض کی ہے تاہم میں دستخط ضرور کر دوں گا۔“ " فق ہو گیا۔غرض معائنہ ہوا اور تینوں نے یہ رائے دی کہ ڈاکٹر چنگا بھلا ہے۔ب اسٹنٹ سرجن کو تو کورٹ مارشل نے ڈسمس کیا اور سول سرجن صاحب کا تنزل ہو کر پھر وہ اسٹنٹ سرجن ہو گئے اور چھپیں سال کی نوکری اصل بات یہ ہے کہ انگریز اگر ذرا بھی بیمار ہوجائیں تو لمبی رخصت داغدار ہوگئی۔آخر شرم کے مارے انہوں نے خود ہی پنشن لے لی اور یادِ خدا لے کر وطن کو بھاگتے ہیں تاکہ ہندوستان کی گرمی میں کام کے قابل رہ سکیں۔میں زندگی بسر کرنے لگے۔ہندوستانیوں کی طرح نہیں کہ دفتر کی کرسی سے مرکز ہی اُٹھیں۔(73) ڈاؤن ایکسپریس شملہ میں 1925ء کا ذکر ہے جبکہ میں رین ہاسپٹل میں متعین تھا کہ ہے۔(72) جھوٹ کی نحوست کیمل پور میں میرے ایک ہم وطن سول سرجنی کے عہدے پر ترقی ایک دن قریباً دو بجے دن کے ایک شخص ایک مزدور کی گود میں ایک 3 سال کا پاکر تعینات ہوئے۔ایک دن کو ہاٹ سے ایک فوجی سب اسٹنٹ سرجن بچہ اُٹھوا کر ہسپتال میں داخل ہوا۔وہ کچھ گھبرایا ہوا سا تھا۔بچہ کو لا کر مزدور نے متوطن کیمل پور اس کے پاس آیا کہ ”میں مدت سے لمبی رُخصت مانگ ایک بینچ پر ڈال دیا اور اُس شخص نے یہ کہنا شروع کیا۔ڈاکٹر صاحب! اس بچہ رہا ہوں۔مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔مگر افسر نہیں دیتے۔اب چار روز کی کو دیکھ لیں۔میں نہیں جانتا یہ کس کا بچہ ہے۔آپ پہلے یہ ملاحظہ کر لیں کہ اتفاقی رخصت لے کر یہاں آیا ہوں۔پر میشر کے لئے آپ ہی مجھ پر رحم کریں اسے چوٹ تو نہیں لگی یا کوئی ہڈی وغیرہ تو نہیں ٹوٹی۔اگر کوئی گزند نہ پہنچی ہو