آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 66
129 128 جی کو شکنجہ میں کسنا شروع کیا۔مجرم کا تعین ہو جائے پھر اقبال جرم کرانا بہت آسان ہوتا ہے۔ماسٹر جی پولیس کے دست شفقت کی تاب نہ لا سکے۔ساتھ موت کا ہے۔جو لوگ قاتل تھے انہوں نے یہ کہانی بنائی کہ یہ شخص ہم سے جھگڑا اور گالم گلوچ کر رہا تھا کہ غصہ اور طیش میں آکر اُس نے دوڑ کر سامنے یہ مر گیا۔ہی اُن کا دستخطی رقعہ بھی موجود تھا اور پٹھان کی چغلی بھی۔آخر انہوں نے اقبال دیوار میں خود ہی اپنے سر سے ٹکر لگائی ہے جس کی وجہ سے کھوپڑی ٹوٹ گئی اور کر لیا اور وزیر آباد کے نالے کے کنارے سے عورت کا گڑا ہوا سر بھی نکال دیا۔کیس مکمل ہو گیا اور ماسٹر جی اپنے کیفر کردار کو پہنچے۔مقدمہ چلا میری گواہی ہوئی تو میں نے جرح کے جواب میں یہی کہا مگر اصل بات اب آتی ہے۔میں نے اقبال جرم کے بعد ایک دن کہ ”اپنی مرضی سے دیوار کے ساتھ ایسی ٹکر مارنا کہ کھوپڑی کی ہڈی پاش پاش جیل میں ماسٹر جی سے پوچھا کہ ”اس قتل کی وجہ کیا تھی؟ تو کہنے لگے کہ ہو جائے میرے نزدیک ناممکن ہے۔میری گواہی کو مشکوک کرنے کے لئے بد قسمتی سے میں سراغرسانی، جرائم اور جاسوسی کے ناول پڑھا کرتا تھا اور جو ایک بڑا ڈاکٹر اس مقدمہ میں بطور اکسپرٹ (ماہر ) بُلایا گیا۔اُس نے پانچ سو کتاب بھی پڑھتا تھا اُس میں مجرم کی شکست اور انصاف کی فتح کا بیان ہوتا نقرئی شکے لے کر آتے ہی کہہ دیا کہ ”ہاں اس قسم کی ضرب خود ٹکر مار کر بھی لگ تھا۔مجھے یہ بات ناگوار گزرا کرتی تھی۔آخر میں نے ارادہ کیا کہ میں بھی ایک سکتی ہے۔چلو معاملہ مشتبہ ہو گیا اور قاتل ڈھول بجاتے اور پیسے کھڑکاتے بُری قتل کروں مگر اس ہوشیاری سے کہ مجرم کا پتہ نہ لگے۔اس پر میں نے بلاوجہ اس ہو کر آگئے۔عورت کو قتل کرنے کی اسکیم بنائی کہ دیکھوں میں کامیاب ہوتا ہوں یا نہیں۔اب نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ماسٹر تو یہ کہہ کر اپنے بستر پر چلا گیا مگر اُس دن سے میرے دل میں یہ خیال جم گیا ہے کہ سراغرسانی کی کتابیں اور سینما کی جرائم آموز کہانیاں واقعی نوجوانوں کو برباد کرتیں اور اُن کی مجرمانہ فطرت کو اُبھارنے میں بہت مدد دے سکتی ہیں۔66 (71) ہٹا کٹا بیمار مدت ہوئی میں ایک شہر کے سول ہسپتال میں اسسٹنٹ سرجن تھا کہ ایک دن سول سرجن کے دفتر میں میڈیکل بورڈ کا اجلاس ہوا ایک ممبر اس بورڈ کا خودسول سرجن تھا دوسرا چھاؤنی کا ایک ملٹری سرجن آگیا تھا۔تیسرا میں تھا۔ب ہم بیٹھ چکے تو سول سرجن نے کچھ کاغذات دستخط کے لئے فوجی سرجن کے آگے کھسکا دئیے۔اُس نے دستخط کر کے میرے آگے سرکا دیئے۔میں نے (70) کبھی یوں بھی ہوتا ہے انہیں پڑھا تو معلوم ہوا کہ کوئی انگریز ہے جو کسی آپریشن کے بعد اس قدر بیمار ایک دفعہ میرے پاس ایک جوان آدمی کی نعش پوسٹ مارٹم کے لئے اور کمزور ہو گیا ہے کہ اُس کے لئے ایک سال کی رخصت ولایت جانے کے لائی گئی۔میں نے بعد ملاحظہ یہ لکھ دیا کہ اس کے سر پر کسی لاٹھی وغیرہ کی سخت لئے منظور ہونی اشد ضروری ہے۔کاغذ پڑھ کر میں نے کہا کہ ” میں اس پر کیونکر ضرب لگی ہے جس سے کھوپڑی کی ہڈی چور چور ہو گئی ہے۔اور یہی باعث دستخط کروں۔میں نے تو اُس شخص کی شکل بھی نہیں دیکھی“۔