آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 53 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 53

103 102 پیدا ہوا۔مگر میں بھی اپنی بات کا پکا تھا مجبور ہو کر نتیجہ لکھ دیا کہ یہ شخص مخمور اور ہے۔اُسے شبہ ہوا۔چھاج اُٹھایا تو صاحبزادہ صاحب اندر بیٹھے ہوئے نظر مدہوش تھا۔سپاہی اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر لے گئے اور میں آئے۔کان پکڑ کر باہر پھینچ لیا اور ہاتھ پکڑ کر لے چلا اور کھینچتا ہوا موٹر تک لے آیا۔اتنے میں گاؤں کے کچھ مرد اور عورتیں موٹر کے گرد جمع ہو گئے۔مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں جھگڑا پیدا نہ ہو۔چنانچہ میں نے لڑکے کو جلدی سے اپنے پاس موٹر میں بٹھا لیا اور ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔گاؤں کے جو لوگ جمع ہو گئے واقعی اُس وقت اُس کے لئے کڑھ رہا تھا۔(52) سڑک کے بھتنے مظفر گڑھ کا ذکر ہے اور غالبا 1930 ء کا کہ میں اپنی موٹر کار میں دائرہ تھے اب تک وہ یہی سمجھتے رہے کہ لڑکے کو شاید مار پیٹ کر چھوڑ دیں گے۔مگر دین پناہ کے شفا خانہ کا ملاحظہ کرنے گیا۔واپسی پر ایک جگہ دھم دھم تین چار موٹر کو جاتا دیکھ کر انہوں نے یورش کر دی۔عورتیں رونے لگیں اور مردوں نے پتھر موٹر پر دونوں طرف سے آکر لگے۔دیکھا تو چارلڑ کے تھے۔دو ایک طرف پتھر برسانے شروع کر دیے مگر ہم نے بھی رفتار تیز کر دی اور ہجوم سے آگے نکل دو ایک طرف۔جنہوں نے بڑے بڑے پتھر موٹر پر پھینکے تھے۔یہاں تک کہ آئے لیکن وہ لوگ برابر تعاقب کرتے رہے۔حتی کہ چار پانچ میل کا فاصلہ گاڑی پر اُن سے نشان اور جب بھی پڑگئے تھے۔میں نے ڈرائیور کو کہا موٹر کار طے کر کے ہم بصیرہ کے پولیس اسٹیشن پر پہنچ گئے۔یہاں آ کر میں نے سب ٹھہراؤ موٹر کو ٹھہرتے دیکھ کر وہ لڑکے بھاگے۔میں نے ڈرائیور اور اردلی دونوں انسپکٹر صاحب کو بلا کر وہ لڑکا جو 12، 14 سال کا تھا اُن کے سپرد کر دیا اور کہہ کو اُن کے پیچھے دوڑایا اور کہہ دیا کسی ایک کو ضرور پکڑ لانا‘۔یہ غل پہلے بھی دیا کہ ان لڑکوں نے موٹر کار والوں کی ناکہ بندی کی ہوئی تھی بلکہ ناک میں سنا ہوا تھا کہ اس مقام پر کچھ شریر لڑ کے جن کی عمریں 12، 14 سال کی ہیں اسی دم کر رکھا تھا۔آپ خود دیکھ لیں کہ یہ تازہ چار پتھروں کے نشانات میری موٹر طرح افسران کی موٹروں پر پتھر مار کر بھاگ جایا کرتے ہیں۔کبھی پکڑے نہیں پر بھی موجود ہیں۔آپ اسے ماریں کوئیں نہیں بلکہ صرف حوالات میں بند کر گئے۔اور سب موٹر کار والے اُن کی شرارت سے نالاں ہیں۔خیر جب ڈرائیور دیں۔پیچھے پیچھے اس گاؤں والے اور رشتہ دار مرد عورتیں آ رہے ہیں۔اصل اور اردلی اُن کے پیچھے بھاگے تو تین لڑکے تو ادھر اُدھر ہو گئے۔مگر ایک سیدھا میں تو اُن کو دھمکانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔تھانہ دار صاحب کہنے لگے گاؤں کی طرف گیا جو سامنے آدھ میل پر نظر آ رہا تھا۔حُسنِ اتفاق سے گاؤں کہ ان بدمعاشوں کی بہت سی شکایتیں افسرانِ بالا نے اس تھانہ میں بھیجی والے اکثر مرد اُس وقت کھیتوں پر تھے۔اور گاؤں تقریباً خالی پڑا تھا۔بھاگتے ہیں۔مگر پتہ نہ لگتا تھا کہ یہ شیطان کون ہیں اور کس گاؤں کے ہیں۔بس اب بھاگتے وہ لڑکا گاؤں میں پہنچ کر ایک گھر میں کھس گیا۔تعاقب کرنے والے آپ اطمینان رکھئے میں سب کو سیدھا کر لوں گا۔میں تو مظفر گڑھ آ گیا۔مگر بھی پیچھے پیچھے وہاں جا پہنچے۔ایک عورت اُس مکان میں بیٹھی تھی اُس سے پھر سنا کہ اس سڑک پر اس کے بعد کامل امن ہو گیا۔اور وہ بھتنے اس واقعہ کے چھا تو اُس نے کہا کہ ”یہاں تو کوئی لڑکا نہیں آیا۔اندر جا کر دیکھا تو واقعی بعد پھر کسی کو نظر نہیں آئے۔وہاں کوئی بھی نہ تھا۔اتنے میں ڈرائیور نے دیکھا کہ تندور پر چھاج ڈھکا ہوا