آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 52 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 52

101 100 " گیا کہ آج یہ لائلپور کی کچہری سے ایک مقدمہ میں فتح یاب ہو کر نکلا تو اس ”آپ نے بڑا مشکل مطالبہ کیا ہے۔میں نے کہا: ”اس سے کم میں میں نے لائکپور کے ریفرشمنٹ روم میں خوب شراب پی۔اس کے گاؤں کے کئی آدمی تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔بولا اچھا تین گھنٹے سوچنے کے لئے دیں“۔میں نے بھی اس کے ہمراہ تھے۔اُن کو بھی پلائی۔پھر کئی بوتلیں شراب کی خرید کر یہ شخص کہا: ”شام تک سوچ سکتے ہو۔شراب تم نے پی ہے اور تمہارے معدہ میں سے مع اپنے ہمراہیوں کے ریل میں بیٹھ گیا۔ٹوبہ ٹیک سنگھ تک کے لئے اُن کے نکالی گئی ہے۔میں جھوٹ تو لکھ نہیں سکوں گا۔مگر حکام سے مل کر بہر حال ٹکٹ تھے۔ریل میں ان سب لوگوں نے مقدمہ کی فتح کی خوشی میں بوتلیں تمہاری خلاصی کرا دوں گا انشاء اللہ۔لیکن صرف اس شرط پر جو میں نے تم سے چڑھائیں۔خصوصاً اس سکھ نے آخر وہ بے ہوش ہو گیا۔ریل کے خانہ میں اور کہی ہے۔مسافر بھی تھے۔انہوں نے ریلوے پولیس کے کنسٹیبل کو جو ٹرین میں موجود تھا خیر میں گھر چلا گیا۔تیسرے پہر وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا اطلاع دی۔یہ دیکھ کر اُس کے باقی سب ہمراہی تو کسی درمیانی اسٹیشن پر گاڑی ڈاکٹر صاحب! میں نے خوب سوچ لیا۔یہ شرط میرے اختیار سے باہر ہے۔سے اُتر کر بھاگ گئے۔اور یہ صاحب اکیلے پڑے رہ گئے۔گوجرہ کے اسٹیشن اور آپ بھی بچے ہیں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ میرے خیر خواہ ہیں لیکن پر اُن کو بھی پولیس والوں نے اُتار لیا۔مگر وہ غٹ تھے۔اس لئے چار پائی پر لاد حالات ایسے ہیں کہ میں ایسا اقرار نہیں کر سکتا۔میں نے کہا: ” کیوں اس میں کر علاج اور معائنہ کے لئے میرے ہاں لائے گئے۔خیر میں نے اُن کا معدہ نقصان اور ہرج کیا ہے؟ کہنے لگا ”بے شک سراسر میرا ہی فائدہ ہے لیکن ہم دھویا اور ضروری علاج کیا۔بے حد شراب اندر سے نکلی۔لیکن جو ہضم ہو چکی تھی لوگوں کی پوزیشن بڑی نازک ہے۔مجھے شراب کی زیادہ عادت اور لت بھی نہیں وہ بھی اتنی تھی کہ ہوش نہ آیا۔صرف اتنا اطمینان ہو گیا کہ صبح تک ہوش آ جائے ہے۔اگر عادت ہوتی تو میں بے ہوش ہی کیوں ہوتا نہ رات بھر مدہوش رہتا۔گا یہ شخص مرے گا نہیں۔صبح کو 8 بجے کے قریب جب میں شفا خانہ میں گیا تو لیکن عزت کے لئے ہر کوئی مرتا ہے۔میں بھی جاٹ کا پوت ہوں۔اگر شراب دیکھا کہ سردار صاحب اچھے بھلے چار پائی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔اس کے بعد میں سے توبہ کرلوں گا تو قوم اور برادری میں ذلیل سمجھا جاؤں گا۔لوگ کہیں گے کہ دوسرے مریضوں کو دیکھتا رہا۔گیارہ بجے فارغ ہو کر میں نے انہیں بلایا۔خرچ کے مارے شراب چھوڑ دی۔برادری میں بیاہ شادی میں میلے تہواروں آدمی قبول صورت، سمجھدار اور معزز معلوم ہوتا تھا۔میرے گھٹنوں کو میں اگر سب سے الگ ہو کر رہوں گا تو ناک کٹے گی۔عزت کا سوال ہے، ہاتھ لگا کر کہنے لگا کہ ”میں شریف ہوں۔معز ز ہوں سفید پوش ہوں۔غلطی ہو عادت کا نہیں۔آپ جو چاہیں پولیس کو نتیجہ لکھ دیں۔مگر میں جاٹ کا بیٹا ہوں گا گئی ہے مجھے پولیس سے اور نئے مقدمہ میں پھننے سے بچاؤ۔کل ہی ایک تو وہ کام نہیں کر سکوں گا جو آپ چاہتے ہیں۔نہ وہ اقرار کروں گا جسے میں پورا مقدمہ فتح کر کے آیا ہوں اگر آج پھر حوالات میں چلا گیا تو میری بڑی ذلّت نہیں کر سکتا۔اگر شراب چھوڑ بھی دوں اور یقیناً چھوڑ سکتا ہوں تو پھر بھی یار اور سبکی ہے۔میں نے کہا: ” ایک شرط پر۔کہنے لگا ”فرماؤ۔میں نے کہا کہ دوست اور افسر لوگ مجھے تو بہ پر قائم نہ رہنے دیں گئے۔تم صرف اتنا اقرار کر لو کہ شراب چھوڑ دوں گا۔سوچ سوچ کر کہنے لگا۔اُس کی تقریر سُن کر میرے دل میں اُس کے لئے ایک جذبہ عزت " "