آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 44 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 44

85 84 ایک دفعہ ایک لوہار قوم کا بیمار جو داخل شفا خانہ تھا اُس نے شکایت کی کہ ڈریسر مجھے سے ایک گھر پے کا مطالبہ کرتا ہے۔اور تکلیف دیتا ہے۔تحقیقات پر معلوم ہوا کہ معاملہ درست ہے۔میں نے کہا:۔عمدہ گھر پاکتنے میں بنتا ہے؟ لوہار نے کہا:- چودہ آنہ میں“۔اُس نے کہا: میں کسی آدمی کا لڑکا ہوں“۔مالی نے پوچھا: ” یہاں کیوں آیا“۔لڑکا بولا: ایک بلا میرے سامنے اس درخت پر چڑھا تھا۔پھر او پر جا کر غائب ہو گیا۔میں اسے دیکھنے اوپر گیا تھا کہ کہاں غائب ہو گیا۔اس پر مالی نے دریافت کیا کہ ”یہ آم کہاں سے آئے؟ جواب دیا کہ " میں نے ڈریسر پر چودہ آنے جرمانہ کر دیے اور اُس لوہار کو وہ پیسے دلوا یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں۔آخر پکڑا ہوا میرے سامنے لایا گیا میں نے اُسے دیے مگر ناجائز وسائل کی آمدنی بند کرنی نہایت مشکل ام (39) ایک سیکنڈ میں رخصت ہوا ایک دن میں شفا خانہ میں بیٹھا تھا کہ ایک جوان عمر آدمی کمرہ کے اندر میرے سامنے دیوار کے پاس جو پیچ پڑا تھا اُس پر آکر بیٹھ گیا۔میں نے کہا پہچان لیا کہ فلاں دوست کا بیٹا ہے۔میں نے کہا: ”چھوڑ دو اس کا بھی ایک حق ہے۔(41) اندھوں کی قسمیں ایک دن مسجد میں کھڑے ہوئے ایک صاحب غل مچا رہے تھے کہ " کیا تکلیف ہے؟ کہنے لگا ” پیٹ میں کچھ درد ہے اور نفخ ہے۔میں یہ کہہ کر کوئی شخص میرا جوتا پہن گیا اور اپنا جوتا اُس کی جگہ چھوڑ گیا۔وہیں ایک اور اپنی کرسی سے اُٹھا کہ ”ذرا اسی بینچ پر لیٹ جاؤ میں تمہارا پیٹ دیکھ لوں۔وہ صاحب بھی موجود تھے کہنے لگے ”پیروں کا اندھا ہو گا۔میں نے پوچھا لیٹ گیا۔اور جب میں بینچ کے پاس پہنچا کہ مریض کا ملاحظہ کروں تو کیا دیکھتا پیروں کا اندھا کیسا ہوتا ہے؟ فرمانے لگے’پانچ قسم کے اندھے ہمارے تجربہ میں آئے ہیں۔ایک تو ظاہری آنکھوں کا اندھا۔جسے واقعی کچھ نظر نہیں ہوں کہ وہ مر چکا تھا۔2 3 آتا دوسرا عقل کا اندھا تیسرا پیروں کا اندھا جس کے پیر اندھیرے میں 4۔(40) یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں اپنی جوتی پہچان نہ سکیں۔حالانکہ ہمارے دایاں پیر اپنے بائیں پیر تک کی 1925ء میں میں گوجرہ میں تھا۔وہاں ہسپتال کے احاطہ میں بکثرت آم کے درخت تھے۔اور اُن دنوں میں پھل بھی بکثرت آیا ہوا تھا۔مگر کچا تھا۔جوتی بھی پہچان لیتا ہے۔اور اپنی جوتی تو فورا ہی معلوم کر لیتا ہے۔چوتھا وہ اندھا جو پان بناتے وقت کٹھہ کی لکھیا میں چونے کی اور چونے کی مکھیا میں ایک چودہ سالہ لڑکا میرے ہی اپنے ایک مہربان کا وہاں آیا۔اور سیدھا درخت پر چڑھ گیا۔پندرہ میں آم توڑ کر جھولی میں ڈالے۔جب نیچے اُترا تو مالی کا کتھے کی پیچی ڈال دیتا ہے۔اور پانچواں اندھا جو باوجود دیکھنے اور جانے ہاتھ اُس کی گردن پر تھا۔مالی نے کہا:۔تو کون ہے؟ بوجھنے کے بیت الخلاء میں بیٹھ کر بجائے گھڑی کے یا اندر کی بالٹی کے قدمچہ کے اوپر پاخانہ کر دیتا ہے۔