آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل)

by Other Authors

Page 43 of 114

آپ بیتی (ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل) — Page 43

83 وو 82 سفارش کر کے شفا خانہ میں ہی عدالت کرنے کا حکم دلوا دیا تھا۔وہ مع عملہ کے ایک اور صاحب تھے۔کسی چھکڑے والے کے چھکڑے سے بازار تشریف لے آئے۔مسل مقدمہ کی پیش ہوئی تو معلوم ہوا کہ چار دفعہ کا سابق میں کسی آدمی کو کچھ چوٹ آگئی۔وہ شفا خانہ آکر زخم کو پٹی لگوا گیا۔آپ نے سزا یافتہ ہے۔اب جو بھی سزا ملے گی وہ پہلی سزا سے دُگنی ہونی چاہیے۔قاعدہ اُس سے اُس ٹھیلے والے کا پتہ پوچھ لیا۔پھر ٹھیلے والے کے گھر پہنچے اور کہا کہ ہی ایسا ہے۔میں نے عدالت سے کہا کہ اب تو خدا نے ہی اس سے انتقام ضرب شدید ہے اب بچہ جی تین سال کی قید تجھے ہونے والی ہے“۔وہ بچارہ ڈر گیا۔کہنے لگا۔” کیا کروں اور کس طرح بچوں؟ فرمانے لگے۔پانچ روپیہ لے لیا ہے۔اور یہ ریلوے چوری کے قابل ہی نہیں رہا۔آپ فیصلہ میں یہ لکھ دلوا تو میں معاملہ ملیا میٹ کرا دوں۔ٹھیلہ والے نے اُسی وقت بھینٹ چڑھائی دیں کہ چونکہ قدرت خود ہی اس سے پورا پورا انتقام لے چکی ہے۔اس لئے مزید سزا دینے کی ضرورت نہیں“۔اور مطمئن ہو گیا۔اور آئندہ کے لئے بھی شکر گزار رہا۔کیونکہ کوئی مقدمہ نالش تو صاحب مجسٹریٹ کہنے لگے۔” کیا بالکل ہی چھوڑ دوں؟ یہ تو ناممکن اس معاملہ میں تھی ہی نہیں۔صرف کمپوڈر صاحب کی کارستانی تھی اور بس۔ہے اور قواعد کے برخلاف۔میں نے کہا: تا برخاستگی عدالت یعنی دس منٹ کی ایک اور بزرگوار تھے جو چند دن کے بعد بیمار کے زخم کو چھیل دیا سزا دے کر اسے دفع کیجئے۔چنانچہ یہی کیا گیا اور اُس شخص کو شفا خانہ کے کرتے تھے۔اور اس طرح چمڑا اُتار کر اپنا ٹیکس وصول فرمایا کرتے تھے۔بعض ملازمین نے دوسرے دن انبالہ کی گاڑی میں سوار کروا دیا۔ہم نے بھی شکر ادا بعض اُن میں سے واقعی دل کی توجہ کے ساتھ بیمار کی خدمت بھی کیا کرتے کیا۔کیونکہ اُس کے مطالبات تعیش ہمارے لئے ناقابل برداشت ہو چکے تھے۔تھے۔ایک دن ایک ڈسپنسر نے کسی بیمار کو کونین کا مکسچر پلایا۔وہ آ کر مجھے کہنے اور روزانہ جو وہ شخص ایک مزدور کی گردن پر سوار ہو کر بازاروں میں کمائی کرتا لگا کہ لکھا تو آپ نے کونین مکسچر تھا مگر تھا بالکل پانی کی طرح پھیکا۔میں پھرتا تھا اس میں بھی شفا خانہ کی بدنامی تھی۔نے کونین مکسچر کی بوتل منگا کر جو اُسے چکھا تو خالص پانی۔میں نے کہا ”ارے بھٹی کیہڑی مل! یہ کیا بات ہے؟ فرمانے لگے ”شاید میں اس میں کونین ڈالنا (38) ہر پیشے میں چالاک آدمی ہوتے ہیں بھول گیا“۔ہر پیشہ میں اچھے آدمی بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی۔ہمارے پیشہ تھی؟ میں نے پوچھا: ”پھر وہ کو نین کہاں گئی جو تمہیں کل نکال کر نہ دی میں بھی یہی حال ہے۔ایک کمپاؤڈر میرے پاس تھا جو بیماروں کو کلوروفارم سنگھایا کرتا تھا۔وہ آپریشن سے پہلے مریض اور اُس کے رشتہ داروں کو یہ سُنا دیا کرتا تھا کہ آپریشن کیا چیز ہے جان تو دراصل میرے ہاتھ میں ہے۔جسے رکھی تھی کوئی بدمعاش اُڑا کر لے گیا۔چاہوں اس کا مُردہ میز سے ہی اُٹھے۔ایک دو دفعہ ایسی بات سُنانے کی دیر تھی کہ آپریشن سے پہلے ہی اس کی منفی گرم ہو جاتی تھی۔اُس نے جواب دیا: ”اجی وہ پڑیا میں تھی۔پڑیا میں نے میز پر میں نے کہا: ”یہ تو چوروں میں مور والی مثل ہو گئی۔بہترین سزائیں بھی ایسے لوگوں کو دیں مگر کچھ اصلاح نہ ہوئی۔