عالمی فتنۂ تکفیر سے متعلق — Page 15
رقیبوں نے پیٹ کھوئی ہے جا کے تھان ہیں کہ ایک نام لیتا ہے خدا کا اس زمانہ میں ۵ - اس رسالہ میں یہ شرمناک جھوٹ بھی بولا گیا ہے کہ پاکستان ہمیلی نے تو بہت دیر بعد محاسبہ کر کے خارج از ملت قرار دیا "حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے الگ ہونے کا اعلان سب سے پہلے قادیانیوں نے کیا (مت) ہم نے خطیب ملت ناروے کے اصل الفاظ بلاکم وکاست نقل کر دیئے ہیں اور اُن کے نیچے خط بھی کھینچ دیا ہے، اب معزز قارئین کی خدمت میں دردمندانہ دل سے اپیل ہے کہ وہ اصل تاریخی حقائق پر غور فرمائیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے سماء سے لے کر شاہ تک اپنی شہرہ آفاق تصنیف شائع فرمائی جسے حسین بٹالوی نے دفاع اسلام میں بے نظیر شاہکارقرار دیا۔مولوی صاحب موصوف ملک کے چوٹی کے اہلحدیث عالم تھے اور رسالہ اشاعۃ السنہ" کے ایڈیٹر تھے۔انہوں نے اس عظیم کتاب پر قریباً دو سو صفحات پر مشتمل تبصرہ شائع کیا جو ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے :- ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں۔لعل الله يحدث بعد ذالك امرا۔اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و عالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ مجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بنا دے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جاتا ہو “ تبصرہ کے آخر میں تحریر کیا کہ : بحكم هل جزاء الإحسان إلا الاحسان کا فہ اہل اسلام پسرا اہلحدیث ہوں خواہ حنفی شیعہ ہوں خواہ سُستی وغیرہ) اس کتاب کی نصرت اور اس کی معارف طبع