آخری اتمام حُجّت — Page 5
میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے انکے چیلنج کو منظور کر لیا ہے وہ بے شک قسم کھا کر یہ بیان کریں کہ یہ شخص اپنے دعوئی میں جھوٹا ہے اور بے شک یہ کہیں اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنۃ اللہ علی الکاذبین اور اس کے علاوہ ان کو اختیار ہے کہ اپنے جھوٹا ہونے کی صورت میں ہلاکت وغیرہ کے لیے جو عذاب اپنے لیے چاہیں مانگیں۔اگر آپ اس بات پر راضی ہیں کہ بالمقابل کھڑے ہو کر زبانی مباہلہ ہو تو پھر آپ قادیان آسکتے ہیں اور اپنے ساتھ دس تک آدمی لا سکتے ہیں اور ہم آپ کا زاد آپ کے یہاں آنے اور مباہلہ کرنے کے بعد پچاس روپیہ تک دے سکتے ہیں، لیکن یہ امر ہر حالت میں ضروری ہوگا کہ مباہلہ کرنے سے پہلے فریقین میں شرائط تحریر ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ گواہوں کے دستخط ہو جائیں گے یا ) اخبار بدر ۴ را بپریل شاه ) 19-6 مولوی ثناء اللہ صاحب جب مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی طرف سے منظوری کی اطلاع پای اورانہیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ قسم کے ساتھ لعنة اللہ علی الکابین کے " کا مباہلہ سے فرار ساتھ دعا بھی کرنا پڑے گی جس سے یہ قسم مباہلہ بن جاتی ہے اور مباہلہ سے دراصل ان کی جان جاتی تھی اور وہ صرف ایسی قسم کھانا چاہتے تھے جو روزانہ لوگ عدالتوں میں لعنة اللہ علی الکا زمین کے بغیر کھاتے ہیں اس لیے انہوں نے مباہلہ والی قسم کھانے یا قادیان آگر زبانی مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین کی دعا کئے بغیر عدالتوں میں کھایا جانے والی قسم پر آمادگی ظاہر کی وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ انہیں نتیجہ پہلے بتا دیا جائے جس کے متعلق جواب انہیں یہ دیا جا چکا تھا کہ " ان کو اختیار ہے کہ اپنے جھوٹا ہونے کی صورت میں ہلاکت وغیرہ کے لیے جو عذاب اپنے ( اخبار بدر ۱۴ اپریل ۱۹۷) لیے چاہیں مانگیں : اس بات کا ثبوت کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے منظوری کی اطلاع ملنے پر مولوی منا نے زبانی مباہلہ سے بھی انکار کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے بالمقابل قسم کے ساتھ لعنة اللہ علی انگارمین کی کی دعا مانگنے کے لیے بھی وہ تیار نہ ہوئے یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اخبار بدر ۴ اپریل شاہ والے مضمون منظورٹی مباہلہ کے جواب میں ۱۹ار اپریل شاہ کے پرچہ میں جو دراصل ایک ہفتہ پیشگی ۱۲ اپریل شاہ کو ہی شائع کر دیا تھا لکھا کہ :- (1) افسوس ہے میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی کی ہے مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر سمیں کھائیں۔حلف اور قسم تو ہمیشہ ہر زاور عدالتوں میں ہوتی ہے ،