آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 42 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 42

تغییر تائی ہر چہار جملہ جنمیں ہونے پاروں کی تفسیری اردو زبان میں کی اسی محمد تقی آج تک نہیں۔نیت سے حصوں سے جلد نجم زیر یع M الحديث المرتر کیا حرج ہے کہ تحریر کے ذریعہ پیالہ ہو جائے۔لیکن اگر آپ تایل مقصد اور دجال جانتا ہوں اثرات ملکہ سالہا سال سے تو میں آپ کے ماہر 5 پر ہی راضی ہیں کہ یا متقابل کھڑے ہوکر زبانی مباہلہ ہو توپھر آپ تا دیا کیونکرڈر سکتا ہوں۔یہ تو نہیں بلکہ آپ کو یہ است گوئی کا سبق دیتا ہوں کہ آسکتے ہیں اور اپنے ہمراہ دس تک آدمی لا سکتے ہیں اور ہم آپ کے زایداہ آپ کوٹا پر مقالہ میں اور خصوصا ہیر سے مقابلہ پر کذب بیانی نہ کیا کریں کیونکہ آپ کے یہاں آنے اور مباہلہ کرنے کے بعد پچاس روپیہ تک لیکتر میں آپ کے کایہ کہنے میں بفقد تعالی مجتہد کا درجہ رکھتا ہوں سے ہیں لیکن یہ امر ہر حال میں ضروری ہوگا کہ مباہ ہونے سے پہلے پر رنگی که خواهی نامه و بوش + من اندازه قدرت را می شناسم فریقین میں شرایطہ تحریر ہو جائیں گئے اور الفاظ کہا کہ تحریر ہوکر ہیں نہیں میں نے جو کہا وہی میری طرف شہرت کیجئے۔دروغ گوئی سے کام جو تحریر پر فریقین اور ان کے ساتھ گواہوں کے دستخط ہو جاویں گے لیے میں نے حلف اٹھا نا کہا ہے باہر نہیں کہا نہ میں نے آپ کو دعوت دی اور قادیاں آپنے کی صورت میں ہم شروط حقیقۃ الوحی کو بھی ضروری ہے بلکہ آپ کی دعوت کو منظور کیا ہے۔نہ میں لئے لعنت اللہ علی الکاذبین نہیں سمجھتے۔لیکن کمزوری ہے کہ مباہر کرنے سے پہلی ہمارا حق ہوتا کہنا کہا تھا۔قسم اور ہے سیاہ اور ہے۔تم کو مباہلہ کہنا آپ کیسے راست کہ ہم دو گھنٹہ تک اپنے دعاوی اور ثبوت کی تبلیغ کریں اور مولوی گوؤں ہی کا کام ہے اور کسی کا نہیں۔اور ثناء اللہ خا موشی سے سنتار ہے اور بیچ میں نہ بولے اور بعد میں غیرہ کے مطابق مہی ہم نیا نہیں گر نمبرے میں ہم آپ دلائل سنانے کا وعد تیرہ میں بھی آپنے معمولی کذب ہر کام کیا ہے یہاں اگر آپ ایسے ہی رحم دل وہ قوم ظاہر کرنے کہ نہیں اس تبلیغ کے لٹنے کے بعد مرزا غلام احمد تھے تو پادری عید اللہ انہم کی بابت کیوں کہا تھا کہ پندرہ ماہ کے اندر اندر کے دنیاوی کو صحیح نہیں کہتا۔اگر آخر الذکر باہ کو مودی نالہ مرجائیگا ہ کیوں آپنے مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے لیے گن ڈائے پسند کرے تو جب چاہے وہ آسکتا ہے البتہ آنے سے پہلے ایک کی موت کی پیشنگوئی شائع کی تھی ؟ ہاں ہم تمہاری اس مہربانی کا گر یہی جانتی ہے تا ہم کو طلاع دے اور اس کے قادیاں آنے کی صورت میں ہیں کہ گورنمنٹ سے بچو نکہ تحریری اقرار ہے کہ میں دم نام کسی کے حق میں اس کی جان اور آبرو کے ہم ذمہ دار ہیں کیونکہ ہماری جماعت مثل موت یا عذاب کی پیشگوئی نہ کرونگا۔اسکو اب رحمت اور مہربانی کی موتی ہو بیٹوں کے ہو اور ہمارے تابع ہے اوران لوگوں کی طرع درندہ ہی ہے۔مصمت بی بی ست از بے چادری طبع نہیں جنکا نمونہ امریت سرمیں دیکھا گیا تھا ہے ( مدور - ہم ایتال) جو اس نہر اول دوم سوم اور چہارم میں آپنے با لکل سفید ہوٹ سو کام دیتے ہیں۔کیا اس قسم کے وعدے آپ نے پہلے نہیں کئے ہو کیا آپ کو یاد یا ہے۔کیونکہ میں نے آپکو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا بلکہ اپنے یا آپ کے حکم سے نہیں کہ شروع شروع میں آپ نے اپنی کتاب ازالہ اوہام کے انتظار کرنے ر قبول آپکے دی ہوں ، آپ کے تابعدار مہ براڈ پٹرا حکم نے جم کو ختم کھانے لک نے مجھ کو تم کھانے کے لو کیسے کیسے اشتہارات شائی کے ہی مر جب وہ نکل آیا تو کیا کھا رہی ہو کے لیے کہا جیکوئین نے منظور کیا ہے۔افسوس ہے میں نے تو قسم کھانے پر ہے میں نے تو قسم کھانے پر تقول مجھے سے جو چیرا تو اک قطره خون نکلاب آمادگی کی ہے گر آپ اسکو مباہلہ کہتے ہیں مارا کہ مباہلہ اسکی کہتے ہیں جو فریقین تیرہ میں ہی اپنے اپنے دجال ہونے کا ثبوت دیا۔خواہ مخواہ اپنی قسم کا ذکر مقابلہ پر قسمیں کھائیں۔خلفہ اور قسم تو ہمیشہ ہر روز عدالتوں میں ہوتی ہے لیکن ؟ روز عدالتوں میں ہوتی ہے لیکن کر دیا۔51 جناب پہنچ آپ کو کب ختم کھانے کے لیے کہا ہ ہم تو آپ کو قسم کھلاتے کہا میں ہلہ اس کو کوئی نہیں کہتا پر ہوش سے سنئے اور مخلوق کو رہو کہ نہ دیکھے ہیں ؟ ہیں نہ آپکی قسم کا اعتبار کرتے ہیں۔خواہ آپ سنتے تورے پر رکھیں نے جو کہا ہے رہی کہئے۔اپنی معولی کذب سے کام نہ بیٹھوں یہ نہیں کہ میں آپ ہیں تو قرآن میں آپکی قسم پر تباہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔پھر ہم آپ کو سے باہر کرنے سے ڈرتا ہوں معاذاللہ جب میں آپکو محض خدا کی اسٹو ایک کیوں قسم دیں اور کیوں اعتبار کریں۔ہاں اپنے کو تم کھانے کے لئے کہا اسلو اور میری پہلے قادیاں پہ جو پر جو آپنے جس نے عمدہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیر مہر دیا امد میر کو دیا ہم تمہارے کہنے سے قسم کہانے کو چھا رہیں۔تبار ہی کافی ہو ان پچاس کی بہلا کیا۔تیرہ ہی فضول ہے ہم تو اسی وحد سے پر قائم ہیں جو ہم نے ۲۹ امی کی ۴۲